خلیجی تنازع ایک فیملی معاملہ ہے: وائٹ ہاؤس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شان سپائسر کا کہنا تھا کہ 'اس معاملے میں جو چار ممالک ملوث ہیں، ہمارا ماننا ہے کہ یہ ایک فیملی معاملہ ہے اور اسے انھیں (آپس میں ہی) حل کرنا چاہیے۔'

امریکہ حکومت کا کہنا ہے کہ قطر اور اس کے خلیجی ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تنازع ’ایک فیملی معاملہ‘ ہے۔

پریس سیکریٹری شان سپائسر نے یہ بات صحافیوں کو ایک آف کیمرہ بریفنگ کے دوران کہی ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں چھ عرب و خلیجی ممالک نے قطر پر دہشت گرد گروپوں کی مدد کرنے اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کے الزامات لگاتے ہوئے اس سے تعلقات منقطع کیے ہیں جبکہ قطر ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔

بات چیت کے لیے انھیں پابندیاں ہٹانی ہوں گی: قطر

قطر سعودی کشمکش میں پھنسے اونٹ

کیا الجزیرہ بقا کی جنگ جیت پائے گا؟

تعلقات کی بحالی کے لیے ان ممالک کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات میں ٹی وی چینل الجزیرہ اور ترک فوجی اڈے کی بندش کے علاوہ ایران سے تعلقات میں کمی کا مطالبہ بھی شامل ہے اور ان پر عملدرآمد کے لیے قطر کو دس دن کا وقت دیا گیا ہے۔

اس تنازع میں قطر کے خلاف کارروائی کرنے والی تمام عرب ممالک امریکہ کے انتہائی قریب ہیں تاہم ابھی تک ان مطالبات کے حوالے سے امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے باضابطہ طور پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

شان سپائسر کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے میں جو چار ممالک ملوث ہیں، ہمارا ماننا ہے کہ یہ ایک فیملی معاملہ ہے اور اسے انھیں (آپس میں ہی) حل کرنا چاہیے۔‘

’اگر ہم ان مذاکرات میں مدد کر سکتے ہیں تو ایسا ہی ہو۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اسے خود حل کریں اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔‘

عرب ممالک کے مطالبات اس وقت قطر کے سامنے پیش کیے گئے ہیں جب حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چاروں عرب ممالک سے کہا کہ وہ اپنے مطالبات 'قابل عمل اور مناسب' رکھیں۔

نامہ نگاروں کا کا کہنا ہے کہ امریکہ اس بحران کا حل چاہتا ہے اور سعودی عرب کی جانب سے مطالبات کی فہرست تیار کرنے میں تاخیر سے امریکہ کافی پریشان تھا۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط متعلقہ حکام نے بتایا کہ مطالبات کی اس فہرست کو کویت نے قطر کے حوالے کیا ہے جو اس بحران کو حل کرنے لیے لیے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

قطر کی جانب سے اس فہرست پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم قطری وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کہہ چکے ہیں کہ پابندیوں کے خاتمے تک بات چیت نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں