عرب ممالک کے مطالبات نامناسب اور ناقابل عمل ہیں: قطر

قطر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

قطر نے سعودی اتحاد والے عرب ممالک کے مطالبات کو نامناسب اور ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

قطر نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ممالک نے مطالبات کی جو لسٹ تیار کی تھی وہ اسے جمعرات کو موصول ہوئی تھی۔

قطر بحران: ’دوحہ 13 مطالبات پر 10 روز میں عمل کرے‘

خلیجی تنازع ایک فیملی معاملہ ہے: وائٹ ہاؤس

کیا الجزیرہ بقا کی جنگ جیت پائے گا؟

قطری حکومت کے محکمہ کمیونیکیشن کے سربراہ شیخ سیف بن احمد الثّانی نے جمعے کو روز اس سے متعلق اپنے رد عمل میں کہا: 'مطالبات کی فہرست نے اسی بات کی توثیق کی ہے جو قطر روز اوّل سے کہتا رہا ہے کہ غیر قانونی رکاوٹ کا دہشت گردی کے خلاف لڑائی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، یہ قطر کی خود مختاری کو محدود کرنے اور ہماری خارجہ پالیسی کو روکنے کی بات ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'حال ہی میں امریکہ نے بائیکاٹ کرنے والے ممالک سے شکایات کی ایسی لسٹ پیش کرنے کو کہا تھا جو مناسب ہو اور جس پر عمل کیا جا سکے۔ برطانوی وزیرخاجہ نے بھی نپے تلے اور حقیقی مطالبات کی بات کی تھی۔ یہ لسٹ تو اس معیار پر پورا نہیں اترتی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Huw Evans picture agency
Image caption امریکہ کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں جو چار ممالک ملوث ہیں، ہمارا ماننا ہے کہ یہ ایک فیملی معاملہ ہے اور اسے انھیں (آپس میں ہی) حل کرنا چاہیے

یاد رہے کہ حال ہی میں چھ عرب و خلیجی ممالک نے قطر پر دہشت گرد گروپوں کی مدد کرنے اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کے الزامات لگاتے ہوئے اس سے تعلقات منقطع کیے ہیں جبکہ قطر ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔

قطر کی حکومت نے مطالبات کی لسٹ موصول ہونے کی تصدیق کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان مطالبات کا جائزہ لے رہی ہے اورباقاعدہ جواب کی تیاری کی جا رہی ہے۔

قطر کی نیوز ایجنسی نے وزارت خارجہ کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ ' قطر کی حکومت ان دستاویزات کا جائزہ لے رہی ہے جس میں مطالبات کا ذکر ہے اور اس بات غور کر رہی کہ آخر کن بنیادوں پر یہ مطالبات پیش کیے گئے ہیں تاکہ مناسب جواب تیار کر کے کویت کے حوالے کیا جا سکے۔‘

اس معاملے پر امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ قطر اور اس کے خلیجی ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تنازع 'خاندانی معاملہ' ہے۔

پریس سیکریٹری شان سپائسر کا کہنا تھا کہ 'اس معاملے میں جو چار ممالک ملوث ہیں، ہمارا ماننا ہے کہ یہ ایک فیملی معاملہ ہے اور اسے انھیں (آپس میں ہی) حل کرنا چاہیے۔'

'اگر ہم ان مذاکرات میں مدد کر سکتے ہیں تو ایسا ہی ہو۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اسے خود حل کریں اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قطر کی حکومت ان مطالبات کا جائزہ لے رہی ہے اورباقاعدہ جواب کی تیاری کی جا رہی ہے

انھوں نے یہ بات صحافیوں کو ایک آف کیمرہ بریفنگ کے دوران کہی۔

گذشتہ روز سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے قطر کو مطالبات کی لسپ سونپی گئی تھی۔ ان مطالبات میں ٹی وی چینل الجزیرہ اور ترک فوجی اڈے کی بندش کے علاوہ ایران سے تعلقات میں کمی کا مطالبہ بھی شامل ہے اور ان پر عملدرآمد کے لیے قطر کو دس دن کا وقت دیا گیا ہے۔

حال ہی میں چھ عرب و خلیجی ممالک نے قطر پر دہشت گرد گروپوں کی مدد کرنے اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کے الزامات لگاتے ہوئے اس سے تعلقات منقطع کیے ہیں جبکہ قطر ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں