عید کے دن کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟

چاند تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مسلمان قمری کیلینڈر کو مانتے ہیں، اس کیلینڈر میں تاریخوں کا انحصار چاند کی مختلف شکلوں میں نظر آنے پر پوتا ہے

رمضان کے اختتام پر ایک اہم مذہبی تہوار آتا ہے، عید الفطر۔ لوگ تیار ہو کر اور نئے کپڑے پہن کر اپنے دوستوں اور خاندان کے لوگوں سے ملتے ہیں اور لذیز کھانوں سے بھری دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لیکن دنیا بھر میں منائے جانے والے اس تہوار کا دن کیسے تعین کیا جاتا ہے؟ بی بی سی کی ایمن خواجہ اور عامر راوش نے اس مشکل طریقے کار کو آسان لفظوں میں سمجھایا ہے۔

چاند کی طاقت

دنیا بھر میں رہنے والے تقریباً دو ارب مسلمان رمضان کے اختتام پر چاند دیکھتے ہیں، مسلمان قمری کیلنڈر کو مانتے ہیں، اس کیلنڈر میں تاریخوں کا انحصار چاند کی مختلف شکلوں میں نظر آنے پر ہوتا ہے۔ رمضان اس کیلنڈر کے نویں مہینے میں آتا ہے۔

ہر سال اس کیلینڈر میں تقریباً گیارہ دن کا فرق آتا ہے۔

قمری کیلنڈر مسلمانوں کے لیے بہت اہم ہے اور اسی کیلنڈر اور چاند کو دیکھ کر نہ صرف رمضان کی تاریخوں کا تعین کیا جاتا ہے بلکہ عید کون سے دن ہے اس کا فیصلہ بھی چاند دیکھ کر ہی کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انڈونیشیا کے شہر جکارتا میں خواتین عید الفطر سے پہلے ابایا اور حجاب کی شاپنگ میں مصروف

مسلمان رمضان میں جو روزے رکھتے ہیں، اگر ان کا انحصار شمسی کیلنڈر پر ہوتا تو دنیا میں ہر جگہ رمضان مختلف اوقات اور مہینوں میں منایا جاتا۔ کچھ ملکوں میں یہ دسمبر میں آتا اور کچھ میں ممالک اسے جون میں مناتے۔

لیکن قمری کیلنڈر کے حساب سے سارے مسلمان دنیا بھر میں رمضان ایک ساتھ مناتے ہیں۔ نہ صرف ایک ساتھ بلکہ بدلتی تاریخوں کی وجہ سے انھیں الگ الگ موسموں میں رمضان کا تجربہ ہوتا ہے۔

تو پھر مسئلہ کیا ہے؟

عید کا دن قمری کیلنڈر کے دسویں مہینے شوال کی پہلی تاریخ کو آتا ہے۔

لیکن اسلام میں اس بات پر بحث ہوتی آئی ہے کہ عید کا اصل دن کونسا ہے اور اس کا تعین کیسے کیا جانا چاہیے۔ بہت سے ملکوں میں مسلمان، خود چاند دیکھنے کے بجائے اس ملک کے ان حکام پر انحصار کرتے ہیں جنھیں چاند دیکھنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔

جبکہ کچھ لوگ اس دن کا تعاین شمسی کیلنڈر دیکھ کر بھی کرتے ہیں۔ اور کہیں کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ علم فلکیات کی مدد سے نیا چاند دیکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کچھ مسلمان ٹیلیسکوپ کی مدد سے نیا چاند دیکتھتے ہیں۔

پوری دنیا کبھی بھی ایک ہی دن عید نہیں مناتی۔ حالانکہ عید منانے کی تاریخوں میں زیادہ سے زیادہ ایک یا دو دن کا فرق ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر سعودی عرب میں عید کب ہوگی، اس کا فیصلہ تب کیا جاتا ہے جب عام عوام میں سے کچھ لوگوں کو چاند نظر آیا ہو۔

بہت سے مسلم ممالک سعودی عرب کی دی ہوئی تاریخ پر ہی عید مناتے ہیں۔

لیکن شعیہ آبادی والے ملک ایران میں اس تاریخ کا تعین حکومت کرتی ہے۔

جبکہ عراق، جہاں شیعہ اور سنی مسلمان دونوں آباد ہیں وہاں پر دونوں مسالک کے افراد اپنے اپنے مذہبی رہنماؤں کی تلقید کرتے ہیں۔

عراق میں سن 2016 میں پہلی بار شیعہ اور سنی مسلمانوں نے ایک ساتھ عید منائی تھی۔

جبکہ ترکی جو کہ ایک سیکولر ملک ہے، عید کے دن کا تعین علمِ فلکیات کی مدد سے کرتا ہے۔

اور یورپ میں مسلمان اپنی اپنی برادریوں کے رہنماؤں کے فیصلے پر عمل کرتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں