مبینہ روسی مداخلت پر اوباما نے ایکشن کیوں نہیں لیا: صدر ٹرمپ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرمپ کا الزام ہے کہ صدر اوباما کو روسی مداخلت سے متعلق اگر پتہ تھا تو کارروائی کیوں نہیں کی

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیشرو براک اوباما پر الزام لگایا ہے کہ انھیں امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کے بارے میں معلوم تھا لیکن اس کے باوجود انھوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ براک اوباما کو نومبر کے انتخابات سے کافی پہلے ان الزامات کے بارے میں معلوم ہوچکا تھا لیکن پھر بھی کوئی 'ایکشن نہیں لیا۔'

ان کا یہ بیان واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون شائع ہو نے کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اوباما کو گذشتہ اگست میں ہی روس کے صدر ولادی میر پوتن کے 'براہ راست ملوث' ہونے کی معلومات حاصل ہو گئی تھیں۔

صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت سے متعلق امریکہ میں اعلیٰ سطح کی جانچ چل رہی ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ انتخابات کے دوران کسی بھی طرح کی روسی مداخلت سے انکار کرتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ اوباما کو گذشتہ برس اگست کے اوائل میں ہی روسی حکومت کے ذرائع سے پتہ چل گیا تھا کہ صدر پوتن انتخابات کو متاثر کرنے کے لیے ایک سائبر مہم سے منسلک ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ انتخابات کے دوران ہلیری کلنٹن کو نقصان پہنچایا جا سکے اور ٹرمپ کو کامیاب بنانے میں مدد کی جا سکے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن پوسٹ کے آرٹیکل کے بعد ٹویٹ کیا: 'اوباما انتظامیہ کو 8 نومبر سے پہلے ہی انتخابات میں روسی مداخلت کا پتہ چل گیا تھا۔ انھوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ آخر کیوں؟۔

امریکی صدر ٹرمپ اتوار کے روز فوکس نیوز پر ایک انٹرویو میں بھی اپنے انھیں الزامات کو دہرانے والے ہیں۔

اس انٹرویو میں انھوں نے کہا ہے: 'اگر ان کے پاس معلومات تھیں، تو انھوں نے اس بارے میں کچھ کیا کیوں نہیں؟ انھیں کچھ کرنا چاہیے تھا۔ لیکن آپ نے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ افسوسناک ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ٹرمپ نے ایف بی آئی کے سربراہ جیمز کومی کو برطرف کر دیا تھا جس کے بعد اس کی تفتیس رابرٹ مولیر کر رہے ہیں

واشنگٹن پوسٹ نے یہ بھی لکھا ہے کہ اوباما نے اس وقت خفیہ طریقے سے روس کو سزا دینے کے بہت سے آپشنز پر غور کیا تھا لیکن آخر میں صرف ایک علامتی قدم اٹھاتے ہوئے 35 روسی سفارت کاروں کو ملک سے بے دخل کرنے کا حکم دیا اور دو روسی دفاتر بند کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

لیکن یہ اقدامات بھی انتخابات کے کافی بعد دسمبر کے اواخر میں کیے گئے۔

واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ صدر اوباما کو اس بات کی فکر تھی کہ کہیں کارروائی کرنے سے ایسا نہ لگنے لگے کہ وہ خود انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران روس کے ساتھ کسی بھی طرح کی ملی بھگت سے انکار کرتے رہے ہیں

اوباما نے روس کے خلاف کارروائی کے جن آپشنز پر غور کیا تھا اس میں روسی بنیادی ڈھانچے پر سائبر حملے کرنے اور روسی صدر پوتن کو نقصان پہنچانے والی معلومات کو افشاں کرنے جیسے اقدامات شامل تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے پانچ ماہ کی مدت میں اپنی ٹیم اور روسی حکام کے درمیان ساز باز ہونے کے الزامات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

تاہم وہ مسلسل اس سے انکار کرتے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اس بارے میں تفتیش انھیں صرف نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔

ادھر امریکی تفتیشی اہلکار یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انتخابات کے دوران روسی سائبر هیكرز نے کہیں انتخابی عمل کو اس طرح سے متاثر تو نہیں کیا کہ ٹرمپ کی جیت ہو سکے۔

روس بھی ایسے الزامات کو سختی سے مسترد کرتا رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں