’عرب ممالک کے چند مطالبات کو پورا کرنا مشکل ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن کا کہنا ہے کہ قطر سے پابندیاں ہٹانے کے لیے چار عرب ممالک کی جانب سے پیش کردہ مطالبات میں سے کچھ ایسے ہیں جھنیں پورا کرنا مشکل ہوگا۔

امریکی وزیرِ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ تجاویز اس مسئلے کے حل کے لیے بنیاد بھی فراہم کرتی ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز ہی قطر کے وزیرِ خارجہ نے سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصرکی جانب سے پیش کی جانے والی 13 شرائط کو مسترد کر دیا تھا۔

ان ممالک نے قطر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی معاونت کرتا ہے تاہم قطر ان الزامات کو مسترد کررہا ہے۔

گذشتہ دو ہفتوں سے قطر غیر معمولی طور پر سفارتی اور معاشی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور ایسی صورتحال میں ترکی اور ایران ہی وہ دو ممالک ہیں جو اسے خوراک اور دیگر اشیا بھجوا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی وزیرِ خارجہ نے عرب ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اکھٹے بیٹھیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اس کا مقابلہ کریں۔

چار عرب ممالک قطر سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ایران سے اپنے تعلقات کو محدود کرے اور قطر میں موجود ترکی کے اڈے کو بند کر دے۔ ان ممالک نے اپنے مطالبات کے لیے دس دن کی مہلت دی تھی جو آئندہ جمعے کو ختم ہو جائے گی۔

دیگر مطالبات کے ساتھ ساتھ قطر کی ہمسایہ خلیجی ریاستیں چاہتی ہیں کہ الجزیرہ ٹی وی کو بند کر دیا جائے جو کہ قطری حکومت کی امداد سے ہی چلتا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان میں عرب ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اکھٹے بیٹھیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اس کا مقابلہ کریں۔

انھوں نے کہا کہ جذباتیت کی کمی مسئلے کے حل میں مدد دے گی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ قطر اور اس کے خلیجی ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تنازع ’ایک فیملی معاملہ‘ ہے۔

قطری حکومت کیا کہتی ہے؟

الجزیرہ ٹی وی کے مطابق سنیچر کو قطر کے وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن نے کہا کہ 'امریکی وزیرِ خارجہ نے پابندیاں لگانے والے ممالک سے کہا تھا کہ وہ معقول اور قابلِ عمل شرائط کی لسٹ فراہم کریں۔'

انھوں نے کہا کہ 'برطانوی وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ مطالبات متوازن اور حقیقت پسندانہ ہونے چاہیے۔یہ فہرست اس معیار پر پوری نہیں اترتی '

قطر کے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ 'یہ مطالبات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کا دہشت گردی سے نمٹنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔ لیکن قطر کی سالمیت اور اور اس کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونا ہے۔'

پابندیوں کے اثرات

قطر خشکی کے راستے درآمدات کے لیے سعودی عرب جبکہ بحری راستے کے لیے متحدہ عرب امارات کے ذریعے سامان کی ترسیل کرتا ہے تاہم اب کنٹینرز اور جہاز رکے ہوئے ہیں۔ قطر کے لیے ہوائی راستے بھی بند ہیں۔

تاہم اس چھوٹے لیکن بہت ہی امیر ملک نے متبادل راستے ڈھونڈ لیے ہیں۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہمسایہ ممالک میں موجود قطری شہریوں کو ملک چھوڑنے کے احکامات ملے ہیں جس کی وجہ سے وہ بہت مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں