نہ افطار نہ عید پارٹی، ٹرمپ نے روایت توڑ دی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گذشتہ20 سالوں سے امریکی حکومت کی جانب سے یہ روایت رہی ہے کہ وائٹ ہاؤس میں افطار پارٹی کی جاتی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق دو دہائیوں میں یہ پہلی بار ہے جب صدر ٹرمپ نے یہ روایت توڑ دی ہے اور نہ تو افطار پارٹی بلوائی اور نہ ہی عید پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔

اگرچہ ان کی جانب سے سنیچر کو مسلمانوں کو عید کی مبارکباد دی گئی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار براجیش اوپادھیائے کے مطابق 'عید کے موقع پر وزارتِ خارجہ کی جانب سے رات کے کھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں صحافیوں کو بھی بلوایا جاتا تھا تاہم اس بار ایسا نہیں ہوا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی افطار یا عید ڈنر کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس بار وائٹ ہاؤس کے پریس ریلیز میں اس کا کوئی تذلکرہ نہیں تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سی این این کے مطابق صدر ٹرمپ نے رمصان میں ڈنر کا اہتمام نہ کروا کے گذشتہ تین حکومتوں کی روایت کو توڑ دیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ تھامس جیفرسن کے مطابق اس روایت کو سنہ 1805 میں امریکہ کے تیسرے صدر نے شروع کیا تھا۔ تاہم وایٹ ہاؤس میں افطار پارٹی کا آغاز صدر بل کلنٹن نے سنہ 1996 میں کیا تھا جسے جارج ڈبلیو بش اور براک اوباما نے برقرار رکھا۔

اس عشائیے میں امریکہ میں بسنے والی مسلمان کمیونٹی کے اہم افراد کو مدعو کیا جاتا تھا اس کے علاوہ کانگرس کے اراکین اور مسلم دنیا کےسفیر بھی مدعو ہوتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سنہ 1999 کے بعد سے اب تک امریکی وزارتِ خارجہ بھی عید پارٹی یا افطار پارٹی کی دعوت دیتی آرہی ہے۔

صدر ٹرمپ اپنی الیکشن مہم کے آغاز سے ہی اسلام کے بارے میں بہت سخت رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے عہد کے آغاز سے ہی بہت سے مسلمان ممالک کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی تھی۔

تاہم بعد میں امریکی صدر نے اپنےبارے میں موجود اس تاثر کو ختم کرنے کی کوشش کی اور سب سے پہلے سرکاری دورے پر سعودی عرب گئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں