’پاکستان اپنی سرزمین دیگر ممالک پر حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے‘

ٹرمپ اور مودی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد کہا کہ امریکہ اور انڈیا کے تعلقات اتنے مضبوط کبھی نہیں رہے

امریکہ اور انڈیا کی جانب سے پاکستان پر ایک مرتبہ پھر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین دیگر ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

یہ بات امریکی صدر کے دفتر وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہی ہے جو کہ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔

’یہ محض مودی کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا‘

سید صلاح الدین کو ’عالمی دہشت گرد‘ قرار دے دیا گیا

پاکستان کو دہشت گردی کا کفیل ملک قرار دینے کا مطالبہ

اس مطالبے کے بعد منگل کی صبح پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا عزم واضح رہا ہے اور پاکستانی حکومت اور عوام نے اس کے خاتمے کے لیے جان و مال کی وہ بڑی قربانیاں دی ہیں جن کی دنیا معترف ہے۔‘

وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا تھا کہ انڈیا نے امریکہ کی جانب سے کشمیری تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو ’خصوصی طور پر نامزدہ کردہ عالمی دہشت گرد‘ قرار دیے جانے کے اعلان کا خیرمقدم بھی کیا ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینے کے لیے پاکستان پر زور دینے کے علاوہ اتفاق کیا کہ وہ پاکستان میں سرگرم جیشِ محمد اور لشکرِ طیبہ سمیت شدت پسند تنظیموں سے لاحق خطرات کے خلاف تعاون میں اضافہ کریں گے۔

بیان کے مطابق صدر ٹرمپ اور وزیراعظم مودی نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ 2008 کے ممبئی حملوں اور 2016 میں پٹھان کوٹ کے فضائی اڈے پر حملہ کرنے والوں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لا کر سزا دے۔

انڈیا ان حملوں کے لیے لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد کو ہی ذمہ دار قرار دیتا رہا ہے۔

انڈیا ماضی میں پاکستان پر دہشت گردی کی ریاستی پشت پناہی کا الزام بھی لگاتا رہا ہے جسے پاکستان سختی سے مسترد کرتا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ نے خِود کو اور وزیراعظم مودی کو 'سوشل میڈیا پر عالمی رہنما' قرار دیا

'باہمی تعلقات اتنے مضبوط کبھی نہیں رہے'

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد کہا کہ امریکہ اور انڈیا کے تعلقات ’اس سے پہلے اتنے مضبوط کبھی نہیں رہے۔‘

پیر کو واشنگٹن میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں فروغ کے متنمی ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم مودی کا کہنا تھا کہ انڈیا اور امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات سے قبل صدر ٹرمپ نے نریندر مودی کو ’سچا دوست‘ کہہ کر مخاطب کیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے آپ کو اور وزیراعظم مودی کو ’سوشل میڈیا پر عالمی رہنماؤں‘ کے طور پر بھی بیان کیا۔

اس سے قبل نریندر مودی نے 20 امریکی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کی جن میں ایپل کے ٹم کک اور گوگل کے سندر پچائی بھی شامل تھے۔

ملاقات کے دوران نریندر مودی نے انھیں بتایا کہ ان کی حکومت نے ہزاروں اصلاحات کے ذریعے انڈیا کو ’کاروبار کے لیے سازگار‘ بنایا ہے۔

انھوں نے ٹویٹ بھی کیا کہ 'بہترین سی ای اوز کے ساتھ بات چیت۔ ہم نے انڈیا میں مواقعوں کے حوالے سے گفتگو کی۔'

اگرچہ امریکہ اور انڈیا دونوں معاشی طور پر مستحکم ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان امیگریشن اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

پیر کو ملاقات سے قبل نریندر مودی نے وال سٹریٹ جرنل میں اپنے مضموں میں لکھا تھا کہ ’انڈیا اور امریکہ مشترکہ طور پر پیداوار اور جدت کو تقویت دے رہے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں