پناہ گزین کی مجبوبہ قید کی سزا سے بچ گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بیئٹرس ہیورے نے مقدمے کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے برطانیہ میں مقیم اپنے محبوب سے ٹیلیفون پر بات کی

ایک ایرانی پناہ گزین کی محبت میں گرفتار ہو کر انھیں غیر قانونی طور پر برطانیہ جانے میں مدد کرنے والی خاتون قید کی سزا سے بچ گئی ہیں۔

بیئٹرس ہیورے پر الزام ہے کہ انھوں نے مختار نامی ایرانی تارک وطن کو ایک کشتی خرید کر دی جس پر بیٹھ کر وہ اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ انگلش چینل عبور کر کے غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچ گئے تھے جہاں اسے پناہ دے گئی ہے۔

ہیورے ایک سابق سرحدی پولیس اہلکار کی بیوہ ہیں اس مقدمے میں قید کی سزا سے بچ گئی ہیں تاہم اس مقدمے میں ان کے علاوہ تین اور افراد پر بھی فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

ایک پناہ گزین اور قوم پرست کی محبت کی کہانی

لورنٹ کیفیر جن کا نِک نیم ’زورو آف دی جنگل‘ ہے بھی سزا سے بچ گئے ہیں۔ انھوں نے بھی بہت سے ایرانیوں کو برطانیہ پہنچنے میں مدد کی تھی۔

تاہم عدالت نے ایک شخص کو تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔

پراسیکیوٹر نے عدالت میں یہ کہا تھا کہ مسز ہیورے اور دیگر افراد انسانی سمگلنگ کی تنظیم کا حصہ تھے اور انھوں نے ایک چھوٹی سی کشتی میں لوگوں کو سمندر پار کروا کر ان کی جان کو خطرے میں ڈالا۔

تاہم عدالت نے ان شدید الزامات کو مسترد کر دیا ہے جن کی وجہ سے ان کی سزا دوگنی ہو سکتی تھی۔

اس سے قبل مقدمے کے آغاز پر بیئٹرس ہیورے نے عدالت کے باہر رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا 'مجھے معلوم ہے کہ میں نے کیا کیا ہے۔ لیکن میں نے جو کچھ کیا وہ انسانی ہمدردی کے تحت کیا'

’میں نے جو کیا محبت میں کیا۔ میں نے یہ پیسے کے لیے نہیں کیا۔ میں یہ آج واضح کرنا چاہتی ہوں کہ میں بری نہیں ہوں۔‘

پینتالیس سالہ بیئٹرس ہیورے نے اس پریشانی کا اظہار کیا کہ اگر انھیں سزا ہوگئی تو وہ اپنے محبوب سے کبھی نہیں مل پائیں گی۔ بیئٹریس ہیورے اپنے محبوب سے ملنے کے لیے اکثر برطانیہ کا سفر کرتی رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر عدالت نے بیئٹرس کے خلاف الزامات کو مان لیا تو انھیں دس برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے

عدالتی فیصلے کے بعد خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ وہ ’مطمعین‘ ہیں۔

بیئٹرس ہیورے نے پناہ گزین سے محبت اور برطانیہ پہنچنے میں مدد کے واقعات کو ایک کتاب 'کیلے مون امور' (Calais Mon Amour) میں بیان کیا ہے۔ انھوں نے کتاب میں لکھا ہے کہ جب وہ ایک سرد شام کو کام سے گھر لوٹ رہی تھیں تو انھوں نے ترس کھا کر ایک پناہ گزین کو اپنی کار میں سوار ہونے دیا اور کیلے میں پناہ گزینوں کے کیمپ میں پہنچا دیا۔ جب انھوں نے کیلے میں پناہ گزینوں کے کیمپ کو دیکھا تو پھر سب کچھ بدل گیا۔

بیئٹرس کے مطابق ان کے شوہر 2010 میں وفات سے پہلے کیلے میں پناہ گزینوں کے کیمپ میں تعینات تھے اور اُن کا مقصد کیمپ سے بھاگ کر برطانیہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے پناہ گزینوں کی کوششوں پر قابو پانا تھا۔

ان کے شوہر کو پولیس اہلکار کی حیثیت سے اُنھیں کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کی اجازت نہیں تھی۔ اسی لیے اپنے شوہر کے کہنے پر وہ قوم پرست جماعت فرنٹ نیشنل کی ممبر بنیں۔ بیئٹرس کے مطابق وہ اپنے شوہر کی طرح نسل پرست تو نہیں تھیں مگر فرانس میں غیرملکیوں کی آمد پر پریشان ضرور تھیں۔

انھوں نے لکھا کہ نہ صرف خود بلکہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو کیمپ میں مقیم لوگوں کی مدد کرنے کے لیے آمادہ کیا اور ان کے لیے کھانے اور کپڑوں کا انتظام کرنا شروع کیا۔ اور اسی دوران ایک دن اُن کی نظر مختار پر پڑی۔ ایک چونتیس برس کا سابق ٹیچر جو اپنا مذہب تبدیل کرنے کے بعد ایران سے جبر اور تشدد سے بچ کر بھاگا تھا۔

اُن کی مختار سے ملاقات اُن دنوں میں ہوئی جب اُس نے کیلے کے پناہ گزینوں کے کیمپ میں انتہائی خراب حالات کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے اپنے ہونٹ سیے ہوئے تھے۔ بیئٹرس کے مطابق جب وہ مختار سے ملیں تو اُس نے انھیں چائے کی دعوت دی۔

یہ ملاقات محبت میں بدلی اور سب دوستوں کے منع کرنے کے باوجود اُنھوں نے مختار اور اُس کے کچھ دوستوں کو اپنے گھر ٹھہرا لیا۔

وہ اپنے محبوب کے مقاصد سے بخوبی واقف تھیں۔ مختار کئی بار برطانیہ جانے کی ناکام کوشش کر چکے تھے۔ پھر مختار اور اُن کے دو دوستوں نے بیئٹرس کو 1000 یورو دیے تاکہ وہ ان کے لیے ایک چھوٹی کشتی خریدیں۔ بیئٹرس ہیورے نے کشتی خریدی جس میں بیٹھ کر مختار برطانیہ پہنچ گئے اور اب شیفلڈ میں مقیم ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں