وینزویلا: سپریم کورٹ پر ہیلی کاپٹر سے حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ INSTAGRAM
Image caption اس افسر نے اپنا نام آسکر پیریز بتاتے ہوئے انسٹیگرام پر پیغام جاری کیا ہے

وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کاکہنا ہے کہ پولیس کے ایک ہیلی کاپٹر سے ملک کی سپریم کورٹ پر بمباری کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان کے مطابق یہ 'دہشت گردانہ' حملہ ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جانے والی ویڈیوز میں ہیلی کاپٹر کو دارالحکومت كراكاس کے مرکزی علاقے میں منڈلاتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے جس میں بعد میں دھماکے کی آواز سنائی دیتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر کو ایک فوجی افسر آسکر پیریز اڑا رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption صدر نکولس مدورو کی حکومت کے خلاف مستقل احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں

حکومت کے مطابق فوجی افسر آسکر پیریز نے پولیس کے ہیلی کاپٹر کو اپنے قبضے میں کر لیا تھا اور پھر اسے دارالحکومت کے اوپر اڑایا۔

صدر مدورو نے اپنے صدارتی محل سے خطاب میں کہا ہے کہ ' میں نے امن کے دفاع کے لیے اپنی تمام مسلح فوج کو فعال کر دیا ہے۔ جلدی یا دیر سے ہم اس ہیلی کاپٹر کو اور ان افراد کو جنھوں نے یہ دہشت گرد حملہ کیا ہے انھیں پکڑ لیں گے۔

اس سے قبل منگل کو صدر مدورو نے کہا تھا کہ امریکہ ان کی حکومت کے خلاف بغاوت کی حمایت کر رہا ہے لیکن وہ اس کا شدت سے جواب دیں گے۔

ادھر ہیلی کاپٹر اڑانے والے آسکر پیریز نے ایک بیان جاری کر کے لوگوں سے 'مجرمانہ حکومت' کے خلاف کارروائیاں کرنے کی اپیل کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کہا جا رہا ہے کہ حملے کا ہدف ‎وینزویلا کی سپریم کورٹ تھی

ان کا کہنا تھا: 'ہم فوجی ملازمین، پولیس، اور ایسے عام شہریوں کا اتحاد ہیں جو توازن چاہتے ہیں اور جو اس مجرم حکومت کے خلاف ہیں۔'

ابھی اس واقعے میں کسی کے مارے جانے یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

وینزویلا کے صدر کے خلاف کئی ماہ سے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ان مظاہروں میں اب تک 70 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ وینزویلا کی سپریم کورٹ پر موجودہ حکومت کا کنٹرول ہے اور سپریم کورٹ نے صدر کے اختیارات میں اضافے کے لیے چند اقدامات بھی کیے تھے۔

اسی بارے میں