’صدر ٹرمپ مغرور اور خطرناک ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے 37 ممالک میں کیے جانے والے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ زیاد تر افراد کی نظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغرور، غیر روادار اور خطرناک ہیں۔

سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی پالیسیاں دنیا بھر میں سوائے اسرائیل اور روس کے انتہائی غیر مقبول ہیں۔

پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے نتائج کے مطابق جہاں بات بین الاقوامی معاملات کی آتی ہے تو وہاں امریکی صدر پر اعتماد میں بڑے پیمانے پر کمی دیکھی گئی ہے۔

نہ افطار نہ عید پارٹی، ٹرمپ نے روایت توڑ دی

ٹرمپ کی دیوار کی راہ میں حائل چھ رکاوٹیں

سروے کے مطابق صرف 22 فیصد افراد کو اس بات پر یقین ہے کہ صدر ٹرمپ دنیا میں امریکہ کا کردار بہتر کر سکتے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں سابق صدر براک اوباما کے دور اقتدار کے آخری سالوں میں ان پر 64 فیصد افراد نے اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

یہ سروے 16 فروری سے آٹھ مئی کے دوران کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گذشتہ ہفتے سی بی ایس کی جانب سے جاری کیے جانے والے سروے کے نتائج کے مطابق صدرات کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے امریکہ میں پسندیدگی کی شرح کم ہو کر 36 فیصد پر آگئی ہے۔

جبکہ پیو ریسرچ کے مطابق صدر ٹرمپ کے آنے کے بعد کئی ممالک میں امریکہ کے لیے پسندیدگی کی شرح میں کمی آئی ہے۔

تاہم 37 ممالک میں کیے جانے والے اس سروے میں سے صرف دو ممالک ایسے تھے جن کے لوگوں کا کہنا تھا کہ انھیں صدر ٹرمپ پر سابق صدر اوباما سے زیادہ بھروسہ ہے۔

ادارے کے مطابق وہ دو ممالک روس اور اسرائیل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پیو کے مطابق لاطینی امریکہ، شمالی امریکہ، یورپ، ایشیا اور افریقہ کے ممالک میں ایسے افراد میں کمی آئی ہے جو امریکہ کی شبیہ کے بارے میں مثبت خیالات رکھتے ہیں۔

امریکی سربراہ پر جن ممالک کے لوگوں نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے ان کا تعلق خصوصی طور پر امریکہ کے اتحادی یورپ، ایشیا، کینیڈا اور میکسیکو سے ہے۔

اگر صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی بات کی جائے تو میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کی ان کی پالیسی کی 76 فیصد لوگوں نے مخالفت کی ہے۔

اسی طرح کی مخالفت صدر ٹرمپ کی جانب سے بین الاقوامی تجارتی معاہدوں، گلوبل وارمنگ سے متعلق پیرس معاہدے اور چھ مسلم ممالک پر سفری پابندی عائد کرنے کے حکم نامے کے لیے بھی دیکھی گئی ہے۔

سروے کے نتائج میں ’اگر صدر ٹرمپ کے لیے کوئی مثبت بات سامنے آئی ہے تو وہ یہ ہے کہ زیادہ تر افراد انھیں مضبوط سربراہ سمجھتے ہیں۔ کچھ کا یہ ماننا ہے کہ وہ ایک کرشماتی، پڑھے لکھے یا عام لوگوں کا خیال رکھنے والے شخص ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں