دبئی کے شیخ راشد المکتوم نے گرجا خریدنے میں برطانوی گاؤں کی مدد کی

تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption گاؤں والے اس گرجا کو کمیونٹی سینٹر میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں

دبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد المکتوم نے ایک چھوٹے سے برطانوی گاؤں کو ایک میتھوڈسٹ گرجا خریدنے میں مدد دی ہے۔

برطانیہ کے شہر ہیلسٹن کے قریب گڈولفن کراس کے رہائشیوں نے شیخ سے گرجا خریدنے کے لیے فنڈز کی اپیل کی تھی۔

تربیت کے لیے 60 ’خوشی کے ذمہ دار افسران‘ منتخب

دبئی کے لیے دس ارب ڈالر کی امداد

دنیا کا سب سے خطرناک گرجا گھر

اس گاؤں کا نام اور شیخ المکتوم کی مدد سے بنائے جانے والے دنیا کے مشہور گھوڑوں کے گڈولفن اصطبل کا نام ایک جیسا ہے۔

گڈولفن کراس کمیونٹی ایسوسی ایشن کے رچرڈ مکی کہتے ہیں کہ 'ہم بہت ممنون ہیں۔'

گروپ کو گرجا خریدنے کے لیے 90 ہزار پاؤنڈ درکار تھے اور مقامی برادری اسے خرید کر کمیونٹی سینٹر میں تبدیل کرنا چاہتی تھی۔ گروپ نے ابھی تک اس کے لیے 25 ہزار پاؤنڈ جمع کیے ہیں۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ شیخ المکتوم نے کتنی رقم دی ہے لیکن گاؤں والوں کے مطابق اب وہ گرجا خریدنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

Image caption شیخ راشد المکتوم کے گھوڑوں کے استبل کا نام بھی گڈولفن ہے

یہ خیال گاؤں کی ایک رہائشی ویلری ویلس کو آیا کیونکہ اس سے پہلے ان کا گروپ گرجا خریدنے کے لیے مطلوبہ رقم اکٹھی کرنے میں ناکام رہا تھا۔

مکی کہتے ہیں کہ انھوں نے اس کے متعلق کچھ نہ سوچا لیکن پھر دبئی سے فون آنا شروع ہو گئے۔

'ہمیں لگا کہ ہمارے ساتھ کوئی فراڈ ہو رہا ہے لیکن وہ (کالیں) جعلی نہیں تھیں۔'

شیخ المکتوم کی طرف سے، جنھیں گاؤں والوں نے مدعو بھی کیا ہے، اس معاملے میں ابھی تک کوئی بیان نہیں آیا۔

اب اس گروپ کو اس گرجے کے ہال کو اپنی اصل حالت میں بحال کرنے کے لیے ساڑھے تین لاکھ پاؤنڈ درکار ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں