موصل: عراقی فوج کا النوری مسجد کے احاطے پر دوبارہ قبضہ

النوری مسجد تصویر کے کاپی رائٹ @FERASKILANIBBC
Image caption النوری مسجد کی ایک علامتی اہمیت ہے اور لگتا ہے کہ جنگجو اس پر عراقی فوج کے قبضے کی جگہ اسے تباہ کرنے کو ترجیح دیں گے۔

عراق کے شہر موصل میں عراقی فورسز نے نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو بے دخل کرتے ہوئے شہر کی مشہور النوری مسجد کے احاطے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

یہ مسجد موصل کے تاریخی پرانے علاقے میں واقع ہے اور اسی جگہ سے ابو بکر البغدادی نے خلافت کا اعلان کیا تھا۔

’مسجد النوری کی تباہی دولتِ اسلامیہ کی شکست کا اعتراف ہے‘

خلافت، موصل اور مسجد النوری

عراق کے ریاستی ٹی وی چینل 'دولت اسلامیہ کے خاتمے' کی خوشیاں منا رہا ہے۔

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ 'احاطے پر دوبارہ قبضے سے جعلی داعش (دولت اسلامیہ) کے خاتمہ ہو گیا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہماری بہادر افواج کامیاب ہوں گی۔ ہم داعش کے خلاف اس وقت تک لڑتے رہیں گے جب تک اس کا آخری جنگ مارا نہیں جاتا یا انصاف کے کٹہرے میں لایا نہیں جاتا۔'

عراقیہ نیوز ٹی وی نے سکرین پر بریکنگ نیوز دکھائی ہے جس میں لکھا ہوا ہے: 'جھوٹ کی ریاست کا خاتمہ ہو گیا ہے۔'

اس کے علاوہ ٹیلی ویژن پر پس منظر میں قومی نغمے چلائے جا رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسن کے مطابق عراق کی فوج نے صبح سویرے حملہ کیا اور جیسے ہی وہ نوری مسجد کے احاطے کی قریب پہنچی شدید لڑائی شروع ہو گئی۔

بی بی سی کے رپورٹر جو فوج کے ہمراہ مسجد کے احاطے میں پہنچے انھوں نے بتایا کہ ابھی وہ دولتِ اسلامیہ کے سنائپروں کے نشانے پر ہیں اور ابھی اس پر پوری طرح قبضہ نہیں ہوا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
موصل کی مسجد النوری کے آٹھ سوسال پرانے مینار کی تباہی

اس مسجد کی ایک علامتی اہمیت ہے اور لگتا ہے کہ جنگجو اس پر عراقی فوج کے قبضے کی جگہ اسے تباہ کرنے کو ترجیح دیں گے۔

دولت اسلامیہ اب عراق اور شام دونوں ہی ممالک میں پسپائی کا سامنا کر رہی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پرانے علاقے کے ایک مربع کلومیٹر کے علاقے میں چند سو جہادی موجود ہیں۔ تاہم اس علاقے میں 50 ہزار شہری بھی محصور ہیں جن کے پاس خوراک نہیں ہے اور اس لڑائی میں شہریوں کے زخمی یا ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

موصل کو آزاد کرانے کے آپریشن کی سربراہی لیفٹیننٹ جنرل عبدالامیر کر رہے ہیں۔ انھوں نے اعلان کیا تھا کہ عراقی فورسز نے مسجد النوری کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس اعلان کے کئی گھنٹوں بعد فورسز مسجد النوری کے کمپلیکس میں داخل ہوئی تھیں۔

متعلقہ عنوانات