امریکہ: چھ مسلم ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں نافذالعمل ہو گئیں

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی صدر ٹرمپ کے چھ مسلم ممالک کے شہریوں پر سفری پابندی کے متنازع قانون کی جزوی بحالی کے بعد ان افراد پر امریکی ویزوں کے حصول کے لیے نئی شرائط نافذ العمل ہوگئی ہیں۔

ان شرائط کے تحت ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں اور تمام پناہ گزینوں کے لیے لازم ہو گا کہ وہ ثابت کریں کہ ان کے قریبی عزیز امریکہ میں مقیم ہیں یا ان کے ملک میں کاروباری روابط ہیں۔

صدر ٹرمپ کی سفری پابندیاں جزوی طور پر بحال

صدر ٹرمپ کی سفری پابندیاں، ایمریٹس پروازیں کم کرنے پر مجبور

دادا، دادی، نانا، نانی، چچا، چچی، ماموں، ممانی، بھانجے، بھانجیاں، بھتیجیاں اور بھتیجے کو 'جائز' رشتے تصور نہیں کیا گیا ہے۔

تاہم وہ افراد جن کے پاس پہلے سے امریکی ویزا موجود ہے وہ ان شرائط سے متاثر نہیں ہوں گے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے اس سلسلے میں متعلقہ سفارتخانوں اور قونصل خانوں کو نئی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

ان ہدایات کے مطابق ایسے افراد کو ہی ویزا جاری کیا جا سکے گا جن کے والدین، شوہر یا اہلیہ، بچے، بہو یا داماد یا حقیقی یا سوتیلے بہن بھائی ہی امریکہ میں مقیم ہوں گے اور والدین کے بھائی بہن یا اپنے بھائی بہنوں کے بچے قریبی رشتہ دار تصور نہیں کیے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرمپ کی سفری پابندیوں کے خلاف امریکہ بھر میں مظاہرے ہوئے تھے

خیال رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے پیر کو امریکی صدر کی پابندیوں کے قانون کی جزوی بحالی کی منظوری دی تھی۔

صدر ٹرمپ کی سفری پابندیوں کے خلاف امریکہ بھر میں مظاہرے ہوئے تھے اور جنوری میں صدر ٹرمپ کا ابتدائی حکم نامہ واشنگٹن اور منیسوٹا کی ریاستوں میں منسوخ کر دیا گیا تھا جس کے بعد انھوں نے مارچ میں ایک ترمیم شدہ حکم نامہ جاری کیا جس میں صومالیہ، ایران، شام، سوڈان، لیبیا اور یمن سے لوگوں کا داخلہ ممنوع قرار پایا تھا۔

صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے میں ان چھ مسلم ممالک کے شہریوں پر 90 روز کی سفری پابندی اور پناہ گزینوں پر بھی 120 روزہ پابندی عائد کرنے کو کہا گیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کا یہ موقف ہے کہ امریکہ میں دہشت گردی کو روکنے کے لیے سفری پابندی ضروری ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں