شام: ’خان شیخون حملے میں اعصاب شکن گیس سرین کا استعمال ہوا‘

شام تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ مشن او پی سی ڈبلیو کا کہنا ہے کہ رواں برس اپریل میں شام میں ہونے والے حملے میں اعصاب شکن ممنوعہ گیس 'سرین' استعمال کی گئی تھی۔

اقوامِ متحدہ کا پینل اب یہ معلوم کرے گا کہ شامی حکومت اس کی ذمہ دار ہے یا نہیں۔

صوبہ ادلب کے علاقے خان شیخون میں ہونے والے اس حملے کو تین سال کے دوران سب سے بڑا حملہ قرار دیا گیا تھا۔

شام میں مبینہ کیمیائی حملہ، 'کم از کم 58 ہلاک'

شام میں کیمیائی حملہ انسانیت کی توہین ہے: ٹرمپ

اس حملے کے بعد امریکہ نے شامی اڈوں پر میزائل حملے کیے تھے۔

فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ کو عینی شاہدین سے بیانات لینے کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 'بڑی تعداد میں لوگ جن میں سے کچھ ہلاک ہو گئے تھے سرین کا شکار ہوئے۔'

یہ رپورٹ او پی سی ڈبلیو ممبران کو بھجوائی گئی ہے تاہم اسے عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا۔

اب او پی سی ڈبلیو اور یو این مشترکہ طور پر دیکھیں گے کہ ان حملوں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ شامی فوج کی جانب سے مبینہ طور پر سرین سے بھرے بموں کے حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیرت میں شامی اڈوں پر کروز میزائل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

تاہم دوسری جانب شامی صدر بشارالاسد کا موقف تھا کہ یہ واقعہ من گھڑت ہے۔

حملے کے بعد روس کا کہنا تھا کہ شام میں درجنوں افراد کو ہلاک کرنے والے مبینہ طور پر کیمیائی حملے کی ذمہ دار باغی فورسز ہیں۔

روسی وزارتِ خارجہ نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ شامی لڑاکا طیاروں نے ادلب صوبے میں خان شیخون نامی قصبے کو نشانہ بنایا ہے تاہم اس فضائی کارروائی میں زہریلے مواد سے بھری بارودی سرنگوں کے ایک ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں