امریکہ: خاتون صحافی کے خلاف ٹرمپ کی متنازع ٹویٹ

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ پر ان کی متنازع ٹویٹ کے لیے کافی نکتہ چینی ہورہی ہے

وائٹ ہاؤس نے ایک سینیئر خاتون صحافی کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر پر دیے گئے متنازع بیان کا دفاع کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ پر میڈیا کے حانب سے مسلسل حملے ہوتے رہے ہیں اور صدر نے ان ہی کے حوالے سے ٹوئٹر پر تبصرہ کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں ایم ایس این بی سی سے وابستہ صحافی میکا برینزسكی کو 'پاگل میکا' کہا تھا۔

ٹرمپ نے انھیں پلاسٹک سرجری کی وجہ سے بدصورت نظر آنے والی خاتون کہا اور ٹی وی پر برینزسکی کے ساتھی میزبان جو سکار برو کو انھوں نے 'پاگل جو' کہا۔

ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: 'میں نے سنا ہے کہ 'مارننگ جو شو' میں میرے بارے میں برے الفاظ کہے گئے۔ تو پھر کیسے وہ کم دماغ والی پاگل میکا اور دماغی مریض جو فلوریڈا میں اپنے 'مار اے لاگو' ریزورٹ میں مجھ سے مسلسل تین دن تک ملنے کو کہہ رہے تھے۔ پلاسٹک سرجری کی وجہ سے وہ بدصورت دکھائی دے رہی تھیں۔ میں نے انہیں منع کر دیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایم ایس این بی سی پر نشر ہونے والا صبح کا شو 'مارننگ جو' کو میکا برینزسکی اور جو سكاربرو مشترکہ طور پر پیش کرتے ہیں

ایم ایس این بی سی پر نشر ہونے والا صبح کا شو 'مارننگ جو' کو میکا برینزسکی اور جو سكاربرو مشترکہ طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس ہفتے کے پروگرام میں میکا نے ٹرمپ کی انتظامیہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ٹرمپ پر 'ظالم' ہونے کا الزام لگایا تھا۔

رپبلکن پارٹی کے سینیئر رہنما پال رائن نے صحافی سے متعلق ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے کہا: 'میرے خیال میں یہ ایک مناسب تبصرہ نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہماری کوشش لہجے کو درست کرنا اور مہذب زبان میں بات کرنے کی ہے۔ اس طرح کے لہجے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔'

لیکن وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ہكابی نے ٹرمپ کے بیان کیا دفاع کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ میڈیا نے صدر اور ان کی حکومت کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے اور صدر انھی حملوں پر اپنی رائے ظاہر کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ریپبلکن پارٹی کے سینئررہنما پال رائن نے صحافی سے متعلق ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی ہے

ان کا کہنا تھا: 'مجھے لگتا ہے کہ اس پروگرام میں صدر پر ذاتی طور پرحملے ہو رہے تھے اور وہ اس بارے میں سمجھ رکھتے ہیں کہ وہ جوابی حملہ کیسے کریں۔'

سارہ نے کہا: 'مجھے لگتا ہے کہ امریکی لوگوں نے ایک ایسے شخص کو منتخب کیا ہے جو مضبوط، سمارٹ اور لڑنے والا ہے، وہ ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کوئی حیرت کی بات ہے کیونکہ وہ آگ کے خلاف آگ سے لڑتے ہیں۔'

50 سالہ برینزسکی نے ٹرمپ کی ٹویٹ کے جواب میں بچوں کے کھانے کا ایک اشتہار ٹویٹ کیا جس میں لکھا تھا: 'ننھے ہاتھوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ہكابي نے ٹرمپ کے بیان کیا دفاع کیا ہے

اس سے انھوں نے ٹرمپ پر طنز کرنے کی کوشش کی ہے۔

میکا برینزسکی اور جو سكاربرو نے انتخابات کے دوران بھی ٹرمپ کے ساتھ کئی پروگرام کیے تھے اور تب حالات دونوں میں خوشگوار تھے۔ لیکن صدر منتخب ہونے کے بعد دونوں نے ٹرمپ پر بہت سے الزامات عائد کیے اور انھیں جھوٹا صدر تک کہا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں جو سكاربرو نے ٹرمپ کو ایسا 'اناڑی پاگل' کہا جو 'اس بچے کی طرح ہے جس نے اپنی پتلون میں پوٹی کر لی ہو' جبکہ میکا نے ٹرمپ انتظامیہ کے ارکان کو دماغی طور پر بیمار بتایا تھا۔

میکا برینزسکی، زبگنيو برینزسکی کی بیٹی ہیں جو صدر کارٹر اور جانسن کے ساتھی تھے جبکہ جو سكاربرو ایک سابق رپبلکن لیڈر ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں