بینک پر پابندیاں عائد کرنے پر چین امریکہ سے ناراض

شمالی کوریا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوامِ متحدہ پہلے ہی پیانگ یانگ پر متعدد پابندیاں عائد کر چکی ہے

چین نے شمالی کوریا کے کالے دھن کو سفید کرنے کے امریکی الزام کے بعد اس کے بینک پر امریکی پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے ’غلط اقدامات روکے‘ جن سے تعاون کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

امریکہ نے جمعرات کو چین کی ایک شپنگ کمپنی کے علاوہ اس کے دو قومی بینکوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

شمالی کوریا پر اقوام متحدہ کی ٹارگٹڈ پابندیاں

امریکہ کا شمالی کوریا پر سخت پابندیاں عائد کرنے پر غور

شمالی کوریا تجربے جبکہ امریکہ مشقیں روکے: چین

امریکہ کا کہنا تھا کہ اس بلیک لسٹنگ کا مقصد شمالی کوریا کے ہتھیاروں کے پروگراموں کی فنڈنگ کو روکنا تھا۔

امریکی وزیرِ خزانہ سٹیون منچن نے نیوز کانفرنس کو بتایا 'ہم پیسے کا سراغ لگائیں گے اور اسے روکیں گے۔'

تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام شمالی کوریا کے خلاف چین کے عدم اقدام کا جواب نہیں۔ 'اس کا چین سے کوئی لینا دینا نہیں، اس کا تعلق چین میں ایک بینک، چند افراد اور کچھ اداروں سے ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جی پنگ کی اپریل میں فلوریڈا میں ہونے والی دوستانہ ملاقات کی 'روح کے خلاف ہے‘

اقوامِ متحدہ پہلے ہی پیانگ یانگ پر متعدد پابندیاں عائد کر چکا ہے تاہم چین کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو شمالی کوریا کو معاشی طورپر نقصان پہنچانے کا سب سے زیادہ اہل ہے۔

واضح رہے کہ واشنگٹن بیجنگ پر پیانگ یانگ کی جانب سے کیے جانے والے سلسلہ وار میزائل ٹیسٹ کرنے کے بعد اس کے خلاف سخت اقدامات کرنے پر زور دیتا رہا ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے کے شروع میں ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ چین کے اقدامات نے 'کام نہیں کیا۔'

امریکہ کی جانب سے چین کے بینک آف ڈاندونگ پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا مطلب ہے کہ اسے امریکہ میں کام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

سٹیون منچن کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ مستقبل میں مزید پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔

امریکی وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے ’یہ بینک شمالی کوریا کی ناجائز مالی سرگرمیوں کا ذریعہ بنا ہے‘ اور اس نے شمالی کوریا کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل پروگراموں میں شامل کمپنیوں کے لیے 'لاکھوں ڈالرکے مالی سودوں میں سہولت فراہم کی ہے۔‘

امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق دو چینی شہریوں کو بھی بلیک لسٹ کیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ انھوں نے شمالی کوریا کے کچھ اداروں کے لیے ڈالیان گلوبل یونیٹی شپنگ کے نام سے ایک شپنگ کمپنی اور کچھ اور کمپنیاں بنائیں جن پر شمالی کوریا میں بیش قیمت اشیا سمگل کرنے کا الزام ہے۔

ادھر چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جی پنگ کی اپریل میں فلوریڈا میں ہونے والی دوستانہ ملاقات کی 'روح کے خلاف ہے۔'

امریکہ کی جانب سے یہ پابندیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اس نے تائیوان کو 1.42 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں