اب شمالی کوریا کے معاملے مزید صبر نہیں کیا جا سکتا: امریکی صدر ٹرمپ

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے جنوبی کوریائی ہم عصر کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے بعد مصافحہ کرتے ہوئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے معاملے پر ان کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو گیا ہے اور اب 'پختہ ارادے کے ساتھ جواب' دینےکا وقت آگیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں جنوبی کوریا کے صدر مون ژئی ان کے ساتھ دی گئی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ 'ہم سب کو ایک لاپرواہ اور بے رحم حکومت سے خطرہ ہے۔'

'اب ایسا نہیں ہوگا‘، ڈونلڈ ٹرمپ کا شمالی کوریا کو پیغام

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان بہت ہوشیار ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

کم جونگ ان سے ملنا اعزاز کی بات ہوگی: امریکی صدر ٹرمپ

شمالی کوریا کے پاس کیا کچھ ہے

انھوں نے شمالی کوریا کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ 'وہ اپنے قبلہ جلد از جلد درست کر لے۔'

دوسری جانب جنوبی کوریا کے صدر مون ژئی ان نے کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ شمالی کوریا کے رہنماؤں سے گفتگو جاری رہے۔ انھوں نے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ جنوبی کوریا اپنے دفاع کے لیے اقدامات اٹھاتا رہے گا۔

صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی اپنی گفتگو میں مون ژئی ان نے کہا کہ شمالی کوریا کا معاملہ اولین ترجیحات میں سے تھا اور انھوں نے زور دیا کہ 'مضبوط سکیورٹی اقدامات ہی بحرالکاہل خطے کے ممالک کی سلامتی کا ضامن بن سکتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی کوریا کے سربارہ کم جونگ ان

امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین نے شمالی کوریا کے کالے دھن کو سفید کرنے کے امریکی الزام کے بعد اس کے بینک پر امریکی پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی امریکی چین پر شمالی کوریا کے میزائل تجربات کی وجہ سے ان کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کے لیے دباؤ ڈالتا رہا ہے لیکن حال ہی میں صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ 'چین کے اقدامات کا کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔'

اپریل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری پروگرام کی وجہ سے اس کے ساتھ ایک بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے۔

اسی بارے میں