سعودی قطر تنازع:’اب بیٹیوں کا نام ال سعودی اور قطر‘

سعودی قطر تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption احمد الانیزی جنہوں نے اپنی نومولود بیٹی کا نام ’ال سعودیہ‘ رکھا ہے

قطر اور سعودی عرب کے درمیان جاری سفارتی تنازع حکومتی حلقوں کے ساتھ ساتھ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بھی زور و شور سے جاری ہے۔

دونوں ملکوں کے عام شہریوں نے اپنے ٹوئٹر اکائونٹس پر اپنی حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی اور مخالف ملک کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔

'مطالبات نہ تو مناسب ہیں اور نہ ہی قابل عمل‘

ہم نے کسی سے بھی ثالثی کرنے کو نہیں کہا: سعودی عرب

’قطر پالیسیاں تبدیل نہیں کرتا تو روابط بحال نہیں کریں گے‘

حال ہی میں سعودی عرب میں ایک شخص نے اپنی بیٹی کا نام 'ال سعودی' رکھا۔ ان کا یہ فیصلہ پچھلے ہفتے کویت میں ایک شخص کے جواب میں تھا جس نے اپنی نومولود بچی کا نام 'قطر' رکھا تھا۔

ٹوئٹر پر جاری ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احمد الانیزی نے اپنی بچی کو سعودی عرب کے جھنڈے میں لپیٹا ہوا ہے اور وہ اپنے پیغام میں کہتے ہیں کہ 'میں اس کویتی باشندے جس نے اپنی بیٹی کا نام قطر رکھا ہے، اس کے جواب میں، میں سعودی شہری ہوں اور میں خدا کی جانب سے دی جانے والی اپنی پہلی اولاد کا نام ال سعودی رکھ رہا ہوں۔'

واضح رہے کہ ان دونوں ملکوں کے مابین جاری تنازع میں کویت ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ٹوئٹر پر صارفین نے اس فیصلے کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار ہیش ٹیگ 'سعودی نے بیٹی کا نام سعودی رکھا ہے' کے ساتھ کیا ہے اور اب تک یہ ہیش ٹیگ 65000 سے زائد مرتبہ ٹویٹ ہو چکا ہے۔

ٹوئٹر پر اس ہیش ٹیگ کے حوالے سے ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا۔ جہاں کئی لوگوں نے اس بات کو سراہا وہیں کئی لوگوں نے اس پر تنقید بھی کی۔ ایک صارف نے کہا: 'یہ قوم پرستی دکھانے کا درست طریقہ نہیں ہے۔'

دوسری جانب ان دونوں ملکوں کے اختلافات بچوں کے ناموں کے علاوہ اور جگہ بھی دیکھنے میں آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لندن میں واقع ہیروڈز جس کی ملکیت قطر کے شاہی خاندان کے پاس ہے

قطری صارفین نے عرب امارت، جو کہ اس تنازع میں سعودی عرب کے ساتھ ہے، کے شہریوں پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لندن میں واقع پر تعیش دکان ہیروڈز سے خریداری نہ کریں کیونکہ اس کے مالکان قطر کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

ٹوئٹر پر یہ پیغامات اس وقت دیکھنے میں آئے جب 26 جون کو عرب امارات کے سے تعلق رکھنے والے اماراتی نارویجیئن چیمبر آف کامرس کے چیئرمین سلطان علی راشد نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 'ہیروڈز میں صرف کیے جانے والا ایک بھی درہم معصوم لوگوں کا خون بہانے کے مترادف ہے۔ دہشت گرد ممالک کی حمایت نہ کریں اور قطری ہیروڈز کا بائیکاٹ کرنے میں ہمارا ساتھ دیں۔'

قطر کے ایک صارف نے اس پر طنز کرتے ہوئے کہا: 'یاد رہے کہ قطر کے پاس ہیتھرو کے ہوائی اڈے کے بھی کچھ مالکانہ حقوق ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ لندن نہ آنا۔'

اسی بارے میں