اٹلی کی تارکین وطن کے بڑھتے مسئلے پر اپنی بندر گاہیں بند کرنے کی دھمکی

اٹلی، تارکین وطن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اٹلی نے تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد پر اپنی بندرگاہوں کو بند کرنے اور امدادی تنظیموں کی کشتیوں کو ضبط کرنے کی دھمکی دی ہے۔

اٹلی کی جانب یہ دھمکی ایک ایسے وقت دی گئی ہے جب پیرس میں تارکین وطن کے مسئلے پر فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزیر داخلہ ملاقات کر رہے ہیں۔

’2017 میں پانچ لاکھ شامی پناہ گزینوں کی واپسی ہوئی‘

تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی، 100 کے قریب لاپتہ

’تارکین وطن پر یورپ کے دروازے کھول دیں گے‘

’غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کا خاکہ تیار‘

اٹلی نے خبردار کیا ہے کہ تارکین وطن کی بہت زیادہ تعداد کی آمد اب ناقابل برداشت ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ افریقہ سے بحیرہ روم کے ذریعے لوگوں کی کثیر تعداد آنے کی وجہ سے زیادہ مدد کی ضرورت ہے۔

سال 2014 سے اب تک 5 لاکھ تارکین وطن اٹلی کے ساحلوں پر پہنچ چکے ہیں۔

اٹلی کی حکومت نے گذشتہ ہفتے صرف دو دنوں کے دوران 12 ہزار تارکین وطن کی آمد پر یورپی اتحاد کے دیگر رکن ممالک پر زیادہ اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے سربراہ فلیپو گرانڈی نے کہا ہے کہ یہ صرف اکیلے اٹلی کا مسئلہ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رواں برس اب تک دو ہزار تارکین وطن اٹلی پہنچنے کی کوشش میں اپنی جان گنوا چکے ہیں

جعمرات کو یورپی یونین کے کمشنر برائے تارکین وطن دمتریز ایوراموپیز نے اٹلی کے لیے زیادہ مالی مدد کا اعلان کیا تھا اور اس کے ساتھ دوسرے رکن ممالک سے کہا تھا کہ وہ زیادہ اظہار یکجہتی کا اظہار کریں۔

اٹلی میں رواں برس کے آغاز سے اب تک 83 ہزار سے زیادہ تارکین وطن پہنچے ہیں اور یہ تعداد گذشتہ برس کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔

رواں برس بحیرہ روم کے ذریعے اٹلی پہنچنے کی کوشش میں ایک اندازے کے مطابق دو ہزار 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق گذشتہ برس پانچ ہزار افراد سمندر کے راستے یورپ جانے کی کوشش میں ہلاک ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں