'ٹرمپ نے سیاست کو تھیٹر جیسا بنا دیا ہے'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سنیچر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ وہ موجودہ دور کے صدر ہیں اس لیے سوشل میڈیا کے کردار کو نئی جہتیں بخش رہے ہیں۔

ممکن ہے کہ سی این این - ریسلنگ ویڈیو امریکی صدر کا ایک غیر معروف چہرہ ہو لیکن یہ ٹرمپ کی کلاسک خصوصیت ہے۔

انھوں نے بار بار یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ سیاست کو ریئلٹی ٹی وی کی طرح ایک پرفارمنگ آرٹ یعنی اداکاری کے فن کے طور پر دیکھتے ہیں جس میں ڈرامہ اور تنازعے کا مسالا جتنا زیادہ ہوتا ہے وہ اتنا ہی مزیدار ہوتا ہے۔

جب ٹرمپ صدارتی امیدوار تھے تو انھوں نے اپنے رپبلکن حریف مارکو روبيو، ٹیڈ کروز اور رینڈ پال کو نیچا دکھا کر انھیں اپنے راستے سے اس طرح سے ہٹایا تھا جیسے وہ کھیل کا حصہ ہی نہ ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption ٹرمپ نے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا ہے جس میں وہ کشتی لڑتے نظر آرہے ہیں

اس کے بعد وہ ہلیری کلنٹن سے مخاطب ہوئے، جن کی وہ کبھی مداح ہوا کرتے تھے اور اپنی شادی کے دوران بہت قربت دکھائی تھی۔ لیکن ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کی ایسی تصویر پیش کی کہ جیسے وہ ایسی انسان ہوں، جنھیں جیل بھیج دیا جانا چاہیے۔

انھوں نے میڈیا، خاص طور پر سی این این کو ایک ایسے کارٹون ولن کے طور پر پیش کیا جیسے وہ جھکا سکتے ہیں۔

اپنی تازہ ٹویٹ میں پیشہ ورانہ ریسلنگ میچ کا کلپ لگانا ایک سے ٹھیک ہی ہے کیونکہ صدارتی انتخابات کے دوران اپنی پوری مہم میں انھوں نے سیاسی عمل کو 'ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ میچ' کی طرح ہی لیا تھا۔ اس میں ڈرامہ زیادہ تھا، ایکشن جعلی تھا اور نتیجہ پہلے ہی سے طے تھا۔

انھوں نے شو سے پردہ ہٹایا اور اپنے حامیوں کے ساتھ اس کارکردگی پر زوردار قہقہے لگائے۔ انھوں نے اپنے حامیوں کو ہیرو (خود) کی تعریف کرنے اور ولن (باقی سبھی ) کو دھمکانے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔

اکثر صحافیوں کا مذاق اڑایا گیا تو واہ واہ کرنے والی بھیڑ نے بھی ان کا مذاق اڑایا۔ تنی ہوئی مٹّھياں ہوا میں لہرائی گئیں اور لوگ لطف اندوز ہوئے۔

پریس اور میڈیا ان کے فن کی کارکردگی کا اہم پلیٹ فارم تھا جہاں ان کے مخالف سیاہ لباس میں ایک ولن کی طرح ہوتے تھے۔

میڈیا کے کچھ لوگوں نے ٹرمپ کی ریسلنگ والی ٹویٹ کو میڈیا کے خلاف بالواسطہ تشدد کی دھمکی کے طور پر دیکھا اور اس کی مذمت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سی این این نے ایک بیان جاری کر کے اس ٹویٹ کو ایک 'المناک دن' بتایا اور اس بات کو دہرایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سیکریٹری سارہ ہکابی نے جھوٹ بولا تھا کہ صدر نے کبھی بھی 'تشدد پر اکسایا یا اس کی حوصلہ افزائی' نہیں کی۔

امریکی صدر کی جانب سے آنے والے ایسے پوشیدہ پیغامات یقینی طور پر ملک میں بحث و مباحثے کو تلخی کی سطح تک لے جائیں گے اور اس بات کا مکمل امکان ہے کہ کچھ لوگ اسے تشدد کی کال سمجھ لیں۔ اگرچہ زیادہ تر لوگ اسے صدر کی ممکنہ منشا کے طور پر لیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

لیکن یہ تازہ واقعہ امریکی سیاسی پلیٹ فارم پر اب تک کے سب سے بڑے شو میں سے ایک نیا موڑ ثابت ہونے والا ہے جس میں شائقین کو خوش کر دینے والی سکرپٹ میں ٹویسٹ بھی موجود

سنیچر کو ٹرمپ نے میڈیا میں موجود اپنے ناقدین کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا: 'صدر میں ہوں، وہ نہیں ہیں۔'

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اصولوں کے مطابق کھیل کھیلا اور جیت بھی حاصل کی۔ وہ بار بار یہ یاد دلائیں گے کہ اب یہ پہلے جیسا کھیل نہیں رہا۔

تو ۔۔۔ماڈرن صدر کے دور میں آپ کا استقبالہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں