’اپنے بہن بھائی پر مقدمہ نہیں کروں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سنگاپور کے وزیراعظم لی سین لُونگ پر ان کی بہن اور بھائی کی جانب سے اختیارات کے غیر قانونی استعمال کے الزام کے بعد وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بہن اور اپنے بھائی پر مقدمہ نہیں کرنا چاہتے۔

یہ بات انھوں نے کئی ہفتوں سے جاری اپنے اور اپنی بہن اور بھائی کے درمیان منظرِ عام پر آنے والی کشیدگی کے بعد پارلیمان میں کہی ہے۔

وزیراعظم کے بہن بھائی کا کہنا ہے ان کے والد کے مکان کے حوالے سے ایک تنازع میں وزیراعظم نے اپنے اثر و رسوخ کا غیر قانونی استعمال کیا۔

وزیراعظم لی سین لُونگ نے متعدد بار ان الزامات کی تردید کی ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم لی سین لُونگ اور ان کے والد پر ماضی میں کئی بار تنقید کی جا چکی ہے کہ وہ اپنے مخالفین کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمات کرتے رہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان سے بہت سے لوگوں نے پوچھا ہے کہ وہ اپنی بہن اور بھائی کے خلاف قانونی کارروائی کیوں نہیں کرتے مگر انھوں نے اعتراف کیا کہ کسی بھی اور معاملے میں وہ قانونی کارروائی ضرور کرتے ماسوایے اس کے۔

انھوں نے کہا کہ اپنے ہی بھائی اور بہن کے خلاف مقدمہ کرنے سے ان کے خاندان کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا اور یہ معاملہ عوام کے لیے پریشانی کا باعث بنے گا، اسی لیے عدالت میں اسے لے جانا ان کا ترجیحی راستہ نہیں۔

تاہم حزبِ اختلاف کے رہنما لوتھیا کیانگ کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو عدالت میں نہ لے جانے سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس بات سے پریشان ہے کہ وزیراعظم کے بہن بھائی کیا کچھ کہہ سکتے ہیں۔

وزیراعظم اور ان کے بہن بھائی کے درمیان اختلاف اس سوال پر ہے کہ کیا انجہانی صدر لی کوان یو اپنے مکان 38 اوکسلی روڈ کو مسمار کرنا چاہتے تھے یا نہیں۔ وزیراعظم کی بہن اور بھائی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اس مکان کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے بچانا چاہتے ہیں۔

تاہم وزیراعظم نے پارلیمان میں اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ’اگر 13 سال تک آپ کا وزیراعظم رہنے کے بعد بھی مجھے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ایک مکان کو بچانے کی ضرورت ہے تو اس کا مطلب تو یہ ہے کہ میری حالت بہت بری ہے۔‘

اسی بارے میں