فرانسیسی صدر کا پارلیمان میں ڈرامائی کٹوتی کا منصوبہ

فرانسیسی پارلیمان تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES

فرانسیسی صدر امانوئل میکخواں نے ملک کی پارلیمان میں ڈرامائی تخفیف کا منصوبہ پیش کیا ہے۔

تاریخی ورسائی محل میں ایک بیان دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ قانون سازوں کی تعداد میں ایک تہائی کمی لانا چاہتے ہیں۔

میکخواں نے کہا کہ اس طرح سے فرانس میں زیادہ موثر حکومت تشکیل دی جا سکے گی اور ملک 'یکسر نئے راستے' پر چل نکلے گا۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ ان کے پاس پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں واضح فتح حاصل کرنے کے بعد اس کا مینڈیٹ موجود ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر پارلیمان نے ان کی مجوزہ تبدیلی ایک سال کے اندر اندر منظور نہ کی تو وہ ریفرینڈم کا سہارا لیں گے۔

ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر میں 39 سالہ صدر نے کہا کہ وہ 'فرانس کو مشترکہ وقار' واپس دلوائیں گے۔

انھوں نے کہا: 'ماضی میں طریقۂ کار کو نتائج پر، اصولوں کو پیش قدمی پر اور عوامی پیسوں سے زندگی گزارنے کو انصاف پر ترجیح دی جاتی رہی ہے۔‘

صدر میکخواں کی مجوزہ کٹوتی سے قومی اسمبلی کی نشستیں 577 سے کم ہو 385 رہ جائیں گی، جب کہ سینیٹ کے ارکان کی تعداد 348 سے کم ہو کر 232 ہو جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 39 سالہ امانوئل میکخواں نے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں واضح فتح حاصل کی تھی

صدر میکخواں نے یہ اعلان پارلیمان کے خصوصی اجلاس سے کیا جو تاریخی وسائی محل میں منعقد کیا گیا تھا۔

تین فرانسیسی جماعتوں نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ کٹر بائیں بازو کے سیاسی رہنما ژاں لوک میلیخوں نے الزام لگایا کہ صدر میکخواں 'صدارتی شہنشاہیت کے فرعونی پہلو کی لکیر عبور کر لی ہے۔'

پیر کو اخبار لبریشن نے صدر میکخواں کی تصویر شائع کی جس میں انھیں یونانی دیوتا زیوس کے روپ میں دکھایا گیا ہے اور انھوں نے ہاتھوں میں آسمانی بجلی کا کڑکا تھام رکھا ہے۔ وسطی بائیں بازو کے اخبار نے لکھا ہے کہ ورسائی میں منعقد کردہ یہ اجلاس فرانسیسی صدر کی مطلق عنانی کا آئینہ دار ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں