روس اور چین کا شمالی کوریا سے تجربات بند کرنے کا مطالبہ

شمالی کوریا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شمالی کوریا کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے 'بین البراعظمی میزائل کے کامیاب تجربے' کے دعوے کے بعد روس اور چین نے شمالی کوریا پر اس کے میزائل اور جوہری پروگرام کو 'منجمد' کرنے پر زور دیا ہے۔

دونوں ممالک نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی بڑے پیمانے پر جاری فوجی مشقوں کو بھی معطل کرنے کی درخواست کی ہے۔

روس اور چین نے شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے تجربے کو 'ناقابلِ برداشت' قرار دیتے ہوئے امریکہ پر جنوبی کوریا میں تھاڈ میزائل نصب نہ کرنے پر زور دیا ہے۔

شمالی کوریا نے 500 کلومیٹر دور مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے

'شمالی کوریا کو جوہری پروگرام سے باز رکھنے کا منصوبہ ناکام'

دوسری جانب چین کے صدر شی جن پنگ روس کے دورے پر ماسکو پہنچے ہیں جہاں انھوں نے اپنے ہم منصب ولادیمر پوتن سے ملاقات کی ہے۔

ادھر جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ اس کے میزائل دنیا میں کسی بھی جگہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اگرچہ پیانگ یانگ نے اس حوالے سے بظاہر ترقی کی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی ڈیوائس اپنے ہدف کا نشانہ درستگی کے ساتھ نہیں بنا سکتی۔

شمالی کوریا کے اس دعوے کے باوجود امریکہ اور روس کا موقف ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل سے انھیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔

اس سے پہلے شمالی کوریا نے کہا تھا کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے 'بین البراعظمی میزائل کا کامیاب تجربہ' کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

یہ پہلا موقع ہے کہ شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے کامیاب تجربے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ میزائل امریکی سرزمین تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس سے قبل امریکہ کا کہنا تھا کہ جاپان کے پانیوں میں ایک میزائل گرا ہے لیکن اس سے شمالی امریکہ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے میزائل تجربوں میں اضافے سے تشویش کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔

سرکاری ٹی وی پر جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق شمالی کوریا نے ہواسنگ 14 میزائل کا تجربہ اپنے لیڈر کم جانگ ان کی نگرانی میں کیا۔

دوسری جانب جنوبی کوریا کے خبررساں ادارے ہونہاپ نے جنوبی کورین فوج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ میزائل مقامی وقت کے مطابق صبح نو بج کر 40 منٹ پر شمالی پیانگن صوبے میں بینگہیون سے داغا گیا۔

اس سے قبل بحرالکاہل میں تعینات امریکی کمانڈ کا کہنا تھا کہ یہ درمیانی رینج کا میزائل تھا۔

جہاں پیانگ ینگ نے اس حوالے سے پیش قدمی کی ہے وہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس بین الابراعظمی بیلسٹک میزائل کے ذریعے کسی جگہ کو درست انداز میں نشانہ بنانے کی صلاحیت نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جاپان کا کہنا ہے کہ یہ میزائل بحیرہ جاپان میں اس کے خصوصی اقتصادی علاقے میں گرا۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا نے حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود اپنی جوہری سرگرمیوں اور میزائل تجربات میں اضافہ کیا ہے۔

جاپان کے چیف کیبنٹ سیکریٹری ہوشیہندے سوگا نے صحافیوں کو بتایا کہ 'شمالی کوریا کی جانب سے اس طرح کی مسلسل اشتعال انگیزی بالکل ناقابل قبول ہے۔ ہم اس کی مذمت اور سخت احتجاج کرتے ہیں۔'

جنوبی کوریا کے نومنتخب صدر مون ژئی ان نے بھی ملک کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

یہ میزائل ایک ایسے وقت میں داغا گیا جب ایک روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپانی وزیراعظم شنزو ابے اور چینی صدر شی جن پنگ سے علیحدہ علیحدہ شمالی کوریا کے بارے میں بات چیت کی تھی۔

گذشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں مون ژئی ان سے ملاقات میں کہا تھا کہ شمالی کوریا کے معاملے پر ان کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو گیا ہے اور اب 'پختہ ارادے کے ساتھ جواب' دینےکا وقت آگیا ہے۔

اسی بارے میں