مودی کا اسرائیل کا دورہ تاریخی کیوں ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption توقع کی جا رہی ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی تل ابیب میں اسرائیل میں رہنے والے انڈین شہریوں سے بھی خطاب کریں گے

انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی منگل کو دو روزہ دورے پر اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔ یہ انڈیا کے کسی بھی وزیرِ اعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ ہے۔

انڈیا کا میڈیا اور سیاسی اور دفاعی ماہرین اس دورے کو ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔

’مودی اور اسرائیل کی ایک جیسی سوچ‘

اسرائیل میں مودی کے شاندار استقبال کی تیاریاں

انڈیا اسرائیل کے قریب تر آرہا ہے

انڈیا اور اسرائیل کے گذشتہ 25 برسوں سے سفارتی تعلقات ہیں اور حالیہ برسوں میں ان دونوں ممالک نے انسدادِ دہشت گردی، دفاع، ذراعت، پانی اور توانائی کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھایا ہے۔

اس دورے کی اہمیت اس طرح سے بھی ہے کہ نریدنر مودی اسرائیل میں اپنے قیام کے دوران فلسطینی علاقوں میں نہیں جائیں گے۔

تاریخی دورہ

دونوں ممالک کے رہنماؤں کی طرف سے دیے گئے بیانات میں اس دورے کو تاریخی کہا جا رہا ہے۔

نریندر مودی نے 3 جولائی کو کیے جانے والے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ 'کل میں اسرائیل کا ایک تاریخی دورہ شروع کر رہا ہوں، جو کہ انڈیا کا ایک خاص پارٹنر ہے۔'

اسی طرح اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جون کے آخر میں کہا تھا: 'مودی، میرے دوست اسرائیل آئیں گے۔۔۔ یہ ایک تاریخی دورہ ہے، 70 سال میں کوئی انڈین وزیرِ اعظم اسرائیل نہیں آیا۔'

انڈیا میں اسرائیل کے سفیر ڈینیئل کارمن کہتے ہیں کہ وزیرِ اعظم مودی کا دورہ 'غیر معمولی نوعیت کا حامل ہے کیونکہ باہمی تعلقات میں تبدیلی آ رہی ہے اور ان کا ڈھانچہ بدل رہا ہے۔'

ایجنڈے پر کیا ہے؟

وزیرِ اعظم مودی کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ وسیع البنیاد مذاکرات کریں گے اور دہشت گردی جیسے مشترکہ موضوعات زیرِ بحث آئیں گے۔

اس دورے میں دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور اقتصادی تعلقات کو اہمیت دی جا رہی ہے جس میں دفاع، سائبر سکیورٹی، ذراعت، تجارت، سفارت کاری اور واٹر مینجمنٹ یا پانی کا انتظام سرِ فہرست رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نریندر مودی اپنے دورے پر فلسطینی علاقوں میں نہیں جائیں گے

اسرائیل کی دفاعی کمپنیوں نے باہمی معاہدوں میں کافی دلچسپی ظاہر کی ہے جس سے مودی کی 'میک ان انڈیا' مہم کو کافی فروغ ملے گا۔

انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش سے بھی ایک معاہدے کی توقع ہے جو کہ دریائے گنگا کے کچھ حصے کی صفائی کے متعلق ہے۔

یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ مودی پانچ جولائی کو تل ابیب میں مقیم چار سے پانچ ہزار کے قریب انڈین شہریوں سے خطاب بھی کریں گے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کے دورے میں ممبئی حملے میں بچ جانے والے اسرائیلی شہری ہولزبرگ موشے سے ملنا بھی شامل ہے جن کے والدین ان آٹھ اسرائیلیوں میں سے تھے جو نومبر 2008 کے دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

فلسطینی علاقوں کو نظر انداز کرنا

مودی رملہ نہیں جائیں گے جہاں سے فلسطینی انتظامیہ فسلطینی علاقوں کا انتظام سنبھالتی ہے اور جو فلسطین کا 'غیر سرکاری' دارالحکومت بھی ہے۔

اسرائیل کا دورہ کرنے والے غیر ملکی رہنما اکثر رملہ کا دورہ کرتے ہیں تاکہ سیاسی تعلقات میں ایک توازن رکھا جا سکے اور بہت سے رہنماوں نے مودی کے فلسطینی علاقوں کو نظر انداز کرنے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

انڈیا میں مسلمان رہنما اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ 'نیرندر مودی کا اسرائیل کا دورہ صرف اس کا فلسطین پر قبضہ مستحکم کرے گا۔'

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مودی کی طرف سے اس طرح واضع طور پر فلسطین کو نظر انداز کرنا اسرائیل اور فسلطین کے مسئلے کو علیحدہ علیحدہ دیکھنے کی نئی حکمتِ عملی کی طرف اشارہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں