جرمنی نے پاناما پیپرز کےلیے ’کروڑوں یوروز‘ ادا کیے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اطلاعات کے مطابق جرمنی نے نام نہاد پاناما پیپرز کی ٹیکس چوری سے متعلق دستاویزات حاصل کرنے کے لیے کروڑوں یوروز ادا کیے ہیں۔

فیڈرل کرائمز آفس (بی کے اے) کا کہنا ہے کہ وہ ملٹی ملین فائل کا تفصیلی تخمینہ لگانے کے لیے اسے الیکٹرانک فارم پر ڈالیں گے۔

اب تک ادا کی جانے والے کل رقم کے بارے میں تو معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ تاہم سرکاری ذرائع نے جرمن میڈیا کو بتایا ہے کہ 50 لاکھ یوروز ادا کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ دستاویزات کو گذشتہ سال افشاں کیا گیا تھا جن میں دنیا بھر کے دولت مند اور طاقتور افراد کے نام منظر عام پر آئے تھے جنھوں نے اپنی دولت کو چھپانے میں مددگار ممالک کا استعمال کیا تھا۔

ان دستاویزات کے افشاں ہونے کے بعد کئی سربراہان مملکت، کاروباری حضرات اور معروف شخصیات پر شدید دباؤ پڑا اور ان میں سے بعض تو مستعفی بھی ہوگئے۔

پاناما پیپرز تاریخ کی سب سے بڑی افشاں ہونے والی دستاویزات ہیں۔ ان میں سے بعض تو کئی میڈیا اداروں کی جانب سے شائع کی جا چکی ہیں جبکہ اب بھی بہت سے دستاویزات ایسے ہیں جو شائع نہیں ہوئے۔

غیر قانونی طور پر حاصل کی جانے والی معلومات کے لیے اتنی بڑی رقم کی ادائیگی جرمنی کی آئینی عدالت کے مطابق قانونی ہے، تاہم یہ معاملہ تاحال متنازع ہے۔

واضح رہے کہ خیال کیا جا رہا ہے کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے بینک صارفین کی معلومات حاصل کرنے کے لیے رقم ادا کی ہے تاکہ ٹیکس چوری کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی جا سکے۔

ٹیکس فراڈ کے ساتھ ساتھ تفتیشی افسران اسلحے کی غیر قانونی خرید و فروخت اور منظم جرائم کے خلاف شواہد اکھٹے کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔

بی بی سی پینوراما اور برطانوی اخبار دی گارڈیئن 76 ممالک کے ان 107 میڈیا دفاتر میں شامل ہیں جنھوں نے ان دستاویزات کا تجزیہ کیا۔

اسی بارے میں