کنگڈم آف ٹاؤلرا: دنیا کی سب سے چھوٹی سلطنت

ٹاؤلارا تصویر کے کاپی رائٹ ELIOT STEIN

آپ نے دنیا کی بڑی بڑی سلطنتوں کے قصے سنے ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ برطانوی سلطنت میں تو کبھی سورج غروب ہی نہیں ہوتا تھا۔ چنگیز خاں کی بادشاہت تو چین سے لے کر ہندوستان کی دہلیز تک پھیلی ہوئی تھی۔ مغلیہ سلطنت کی وسعت بھی کابل سے لے کر کولکتہ تک تھی۔

لیکن ہم آپ کو دنیا کی سب سے چھوٹی سلطنت کی سیر پر لیے چلتے ہیں۔

ایک ایسی سلطنت جس میں کل 11 لوگ رہتے ہیں، وہ بھی پارٹ ٹائم۔ ایک ایسا بادشاہ جو اپنی کشتیاں اور ایک ریستوراں خود چلاتا ہے۔ جس نے نیکر اور سینڈل میں ہی زندگی گزار دی۔ یہ بےحد دلچسپ سلطنت ہے، کنگڈم آف ٹاؤلرا۔

اٹلی کے صوبے سارڈينيا کے پاس بحیرہ روم میں واقع یہ ایک انتہائی چھوٹا سا جزیرہ ہے جہاں پر ایک بادشاہت قائم ہے، وہ بھی اٹلی کے ایک ملک کے طور پر وجود میں آنے سے پہلے سے۔

کنگڈم آف ٹاؤلرا، اصل میں ٹولرا نام کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کی کل طول و عرض پانچ مربع کلومیٹر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ELIOT STEIN

اس سلطنت کے بادشاہ کا نام ایتونيو برتلونی ہے۔

اگر آپ کبھی ٹاؤلرا پہنچیں تو وہاں آپ کو بادشاہ ایتونيو برتلونی کو تلاش کرنے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ وہ بادشاہ کے حلیے میں نظر آتے ہی نہیں۔ نہ تو ان کا لباس بادشاہوں جیسا ہے اور نہ ہی طرز زندگی۔

ایتونيو برتلونی کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کے طور پر انھیں صرف مفت کھانے کی سہولت ہی میسّر ہے۔ وہ بھی ان کے اپنے ریستوران سے ملتا ہے۔

کنگڈم آف ٹاؤلرا اس سال اپنے قیام کے 180 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔

اس دور میں ایک جزیرے پر آباد ایک سلطنت کی باتیں مذاق لگتی ہیں۔ مگر یہاں کے باشندے اور بادشاہ ایتونيو برتلونی اس حوالے سے کافی سنجیدہ ہیں۔ اس بارے میں سوال کرنے پر وہ کئی پشتوں کی تاریخ بتاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ REALY EASY STAR/ALBERTO MAISTO/ALAMY

اینتونيو برتلونی کے مطابق ان کے پردادا کے پردادا، گسیپ برتلونی 1807 میں دو بہنوں سے شادی کر کے اٹلی سے فرار ہوگئے تھے۔

اس وقت اٹلی کا وجود بطور ایک ملک نہیں تھا، بلکہ اس کا صوبہ سارڈينيا ایک مختلف سلطنت کے طور پر آباد تھا۔

یہاں دو شادیاں کرنا منع تھا۔ اسی لیے گسیپ برتلوني بھاگ کر اس جزیرے پر آ کر بس گئے تھے۔

وہ جینوا شہر کے رہنے والے تھے۔ گسیپ کو جلد ہی اس جزیرے پر پائی جانے والی سنہرے دانتوں والی بکریوں کا پتہ چلا۔

یہ دنیا میں اپنی نوعیت کی انوکھی بکریاں ہیں۔ جلد ہی ان بکریوں کا تذکرہ اٹلی تک پہنچا۔

سارڈينيا کے بادشاہ کارلو البرٹو ان بکریوں کو دیکھنے اور ان کا شکار کرنے کے لیے ٹاؤلرا جزیرے پر آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ELIOT STEIN

یہ بات 1836 کی ہے۔ گسیپ کے بیٹے پاؤلو نے کارلو البرٹو کی ان بکریوں کے شکار میں مدد کی اور پورے جزیرے کی سیر کروائی۔

ایتونيو بتاتے ہیں کہ جب سارڈينيا کے بادشاہ البرٹو ان جزائر پر پہنچے تو انھوں نے کہا کہ وہ سارڈينيا کے بادشاہ ہیں۔ اس کے جواب میں ان کے پردادا پاؤلو نے کہا کہ وہ ٹاؤلرا کے بادشاہ ہیں۔

ٹاؤلرا میں تین دن گزاركر کارلو البرٹو جب اپنے ملک واپس آئے تو وہاں سے ایک فرمان جاری کرکے کہا کہ ٹاؤلارا، سارڈينيا کی سلطنت کا حصہ نہیں ہے۔

اس کے بعد پاؤلو برتلوني نے اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ اس جزیرے پر اس وقت کل 33 لوگ رہتے تھے۔ تو پاؤلو ان 33 لوگوں کے بادشاہ ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ RICCARDO FINELLI
Image caption اپنے ریستوراں کے باہر ٹاؤلارا کے شہشاہ اینتونیو برتلولینی

پاؤلو نے مرنے سے پہلے ایک شاہی قبرستان بنوایا۔ انھوں نے وصیت کی کہ انہیں جب دفنایا جائے تو ان کی قبر پر ایک تاج بھی لگایا جائے۔

دلچسپ بات یہ کہ پاؤلو برتلونی نے جیتے جی کبھی تاج نہیں پہنا تھا۔ بعد کے دنوں میں ٹاؤلرا کے بادشاہوں کی قصے پورے بحیرہ روم میں پھیل گئے۔

19ویں صدی میں برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ نے دنیا بھر کے بادشاہوں کی تصاویر جمع کرنے کا مشن شروع کیا تھا۔ اس دوران ایک جہاز انھوں ٹاؤلرا بھی بھیجا تھا تاکہ یہاں کے شاہی خاندان کی تصویر بھی حاصل کی جا سکے۔

اس دور کی تصویر برسوں تک انگلینڈ کے بکنگھم پیلس میں آویزاں رہی۔ آج وہ تصویر اینتونو برتلوني کے ریستوراں میں لگی ہوئی ہے۔

1962 میں یہاں نیٹو کا فوجی اڈہ بننے کے بعد اس چھوٹی سی سلطنت کی خود مختاری ختم ہو گئی۔

اس کے بیشتر حصے پر آمدورفت پر پابندی لگا دی گئی لیکن اٹلی نے کبھی بھی باضابطہ طور پر ٹاؤلرا کو اپنا حصہ نہیں بنایا لیکن ٹاؤلرا کو دنیا کا کوئی بھی ملک باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ REDA &CO SRL/ALAMY

ٹاؤلرا کے بادشاہ اینتونيو اور ان کے خاندان کے لوگ اٹلی سے اس جزیرے تک کے لیے فیری چلاتے ہیں۔

بڑی تعداد میں سیاح یہاں سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں۔ زیادہ تر سیاح یہاں کی بکریاں اور ناپید ہونے والے باز کی ایک نسل کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔

ٹاؤلرا کے آس پاس کے سمندر میں بڑی تعداد میں سمندری جانور رہتے ہیں۔ اینتونيو اور ان کے بھتیجے فیری سروس چلاتے ہیں تو ان کا ایک دوسرا بھتیجا سمندر میں مچھلیوں اور دوسری اشیا کا شکار کرتا ہے۔

یہی شکار کی گئی اشیا کو جزیرے پر واقع واحد ریستوران میں پکا کر سیاحوں کو پیش کی جاتی ہیں۔

اینتونيو کہتے ہیں کہ ٹاؤلرا پر حکومت کرنا خاندانی پیشے جیسا ہے۔ سیاحوں کی آمد و رفت بڑھنے سے اینتونيو کے راج کی آمدنی بھی بڑھ جاتی ہے۔ لیکن وہ عام لوگوں کی طرح ہی زندگی بسر کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ REALY EASY STAR/ALBERTO MAISTO/ALAMY

اینتونيو کو روز صبح اٹھ کر خاندانی قبرستان جا کر اپنی بیوی کی قبر پر پھول چڑھانا سب سے اچھا لگتا ہے۔ وہ پلاسٹک کے پھول لے جاتے ہیں۔

ایتونيو کا کہنا ہے کہ اصلی پھول چرھانے سے بکریاں انھیں چر جاتی ہیں۔ قبرستان میں برتلوني خاندان کے تمام مرحوم افراد دفن ہیں۔

تکنیکی طور پر اینتونیو اور ان کے تمام لواحقین،اٹلی کے شہری ہیں۔

انھوں نے ایک بار سوچا تھا کہ وہ ڈیوک آف سیوائے سے اپیل کریں کہ ان کی بادشاہت کو تسلیم کیا جائے لیکن پھر انھوں نے یہ خیال ترک کردیا۔

اینتونيو کہتے ہیں کہ جب ہمارے پاس محل کے طور پر اتنا بڑا جزیرہ ہے تو پھر باقی رسم و رواج کی کیا ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں