’ٹونی بلیئر نے عوام سے سیدھی بات نہیں کی‘

Image caption وزیراعظم نے حقائق کے بجائے اپنی رائے پر مبنی وجوہات پر جنگ کے حوالے عوام کو آگاہ کیا۔

عراق کی جنگ کے بارے میں برطانوی حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی کے چیئرمین سر جان چِلکوٹ نے کہا ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے عراق جنگ کے بارے میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں ’برطانوی عوام سے سیدھی بات نہیں کی۔‘

گذشتہ سال اپنی رپورٹ جاری کرنے کے بعد پہلی بار میڈیا سے بات کرتے ہوئے سر جان چِلکوٹ نے وزیراعظم ٹونی بلیئر کے فیصلوں کی وجوہات کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

'بلیئر اور بش پر جنگی جرائم کی عدالت میں مقدمہ قائم کیا جائے'

'عراق جنگ کی غلطیاں، معاف کر دیں'

انھوں نے کہا کہ ٹونی بلیئر نے جو شواہد کمیٹی کو فراہم کیے وہ ’جذباتی حقیقت‘ پر مبنی تھے مگر انھوں نے حقائق کے بجائے اپنے یقین کے مطابق فیصلے کیے۔

ادھر ٹونی بلیئر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تمام معاملات سلجھائے جا چکے ہیں۔

بی بی سی کی سیاسی نامہ نگار لورا کُونزبرگ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے 2003 میں جنگ سے بالکل پہلے ٹونی بلیئر کی ذہنی کیفیت اور سابق امریکی صدر جارج بش کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بات کی۔

سر جان چِلکوٹ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ جب انھوں نے تحقیقات شروع کیں تو انھیں اس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اس میں کتنا وقت لگے گا تاہم انھوں نے کمیٹی کے کام اور تحقیقات میں سات سال لگنے کا دفاع کیا۔

انکوائری کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ ٹونی بلیئر نے عراق اور صدام حسین کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور عراق پر حملہ کرنا اس مسئلے کا آخری حل نہیں تھا۔

یاد رہے کہ ٹونی بلیئر نے برطانوی پارلیمان کے سامنے اس حملے کو بطور ’آخری حل‘ پیش کیا تھا اور تبھی پارلیمان نے اس حملے کی منظوری دی تھی۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا وزیراعظم ٹونی بلیئر نے برطانوی عوام سے جتنا ممکن ہو سچ بولا تو سر چلکوٹ نے کہا کہ عراق کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ٹونی بلیئر ہمیشہ انتہائی سنگین حالات بیان کرتے ہیں اور وہ اپنے موقف کا انتہائی حد تک دفاع کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نے حقائق کے بجائے اپنی رائے پر مبنی وجوہات عوام کو بتائیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ٹونی بلیئر نے واقعات کے بارے میں مکمل معلومات بیان کیں تو ان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں، اور میں یہ کہتے ہوئے ہچکچاتا ہوں، انھوں نے اپنے نقطہِ نظر سے جذباتی حقیقت بیان کی۔‘

جان چلکوٹ کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں وہ انہتائی جذباتی دباؤ کا شکار تھے اور ایسی صورتحال میں آپ کی قوتِ فیصلہ متاثر ہوتی ہے۔

عراق کی جنگ میں سات سال کے دوران برطانیہ کے 179 فوجی ہلاک ہوئے۔

سر جان چِلکوٹ نے ٹونی بلیئر اور امریکی صدر جارج بش کے تعلقات کے بارے میں بھی بات کی۔

سر چِلکوٹ نے بتایا کہ جب انہیں نے سنہ 2002 میں بلیئر کی جانب سے بش کو بھیجا گیا یہ پیغام پڑھا کہ ’کچھ بھی ہو جائے میں تمھارے ساتھ ہو‘، تو ان کا ردعمل یہ تھا کہ ’آپ ایسا نہیں کہہ سکتے۔‘

’ایک خودمختار حکومت دوسری حکومت کے ساتھ ایک ایسے وعدے کی پابند ہو رہی ہے جو وہ پورا نہیں کر سکتی۔ میرا مطلب ہے کہ اس موقعے پر تو انہیں اس معاملے کے قانونی پہلوؤں کا بھی علم نہیں تھا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں