’باغی‘ ترک فوجی جن کا اب کوئی وطن نہیں

ترکی

ترکی میں گذشتہ سال جولائی میں ناکام فوجی بغاوت کے دوران استنبول اور انقرہ کی سڑکوں پر لڑائی شروع ہو گئی تھی۔

جلد ہی امن و امان کو بحال کر دیا گیا اور اس کے منصوبہ سازوں کو گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد اس ناکام بغاوت کے منصوبے میں ملوث ہونے پر ججوں اور اساتذہ سمیت ہزاروں افراد کے خلاف انتقامی کارروائی شروع کر دی گئی۔

کیا ترکی کے تاریک دن لوٹ آئے؟

’گولن سے روابط‘ پر ترکی میں نو ہزار پولیس اہلکار برطرف

ترکی میں مزید 15 ہزار سرکاری ملازمین کو برطرف کر دیا گیا

برسلز میں ماریا پسرا بتاتی ہیں کہ ان کارروائیوں کا دائرہ بیلجیئم تک پہنچ گیا جہاں اس کے اثرات ابھی تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

برسلز کے ایک چھوٹے سے کیفے میں بیٹھے دو افراد اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے کہ کہیں ان کا پیچھا تو نہیں کیا جا رہا۔ ان کے ساتھ دو خواتین خاموش بیٹھی تھیں اور وہ اشارے کا انتظار کر رہی تھیں کہ اب بات چیت کرنا محفوظ ہے۔ ابراہیم پہلے ہی بتا چکے تھے کہ ان کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 'ترکی کا میڈیا ہمیں دہشت گرد کہتا ہے اور ترکی کے علاوہ روسی خفیہ ایجنسی بھی ہمیں مار سکتی ہے۔ ترکی کے افسر ہمیں غدار کہتے ہیں اور لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ اگر ہم سے آمنا سامنا ہو تو حملہ کر دیں۔'

ایک برس قبل ابراہیم اور عبداللہ (دونوں کے اصل نام نہیں) ترک فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے اور نیٹو میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ اب دونوں بے روز گار ہیں اور عملی طور پر کسی ریاست کے شہری نہیں ہیں۔

عائز اور ڈینیز (یہ نام بھی فرضی ہیں) ان دو ترک فوجیوں کی بیویاں ہیں جن کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ان کی زندگیاں ڈرامائی انداز میں بدل گئی ہیں۔

ان کے گھر نہیں رہے اور نہ ہی کوئی آمدن ہے اور اب یہ اس ملک میں بھی نہیں جا سکتی جہاں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔

گذشتہ برس 15 جولائی کی ناکام بغاوت کے بعد سے امریکہ میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن سے تعلق کے شعبے میں اب تک ہزاروں سرکاری ملازمین، جج، اساتذہ، صحافی اور دیگر محکموں میں کام کرنے والوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

بیرون ملک تعینات سینکڑوں کی تعداد میں فوجی اہلکار خود کو محفوظ تصور کرتے تھے کیونکہ یہ بات واضح تھی کہ کم از کم انھوں نے لڑائی میں حصہ نہیں لیا۔

گذشتہ اگست سے ہر جمعے کو برسلز میں ان فوجی افسروں کی فہرست آنا شروع ہو گئی جنھیں بغیر کسی وضاحت کے معطل یا پھر نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔

ستمبر کے آخر میں برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر اور دیگر ممالک میں ترک مشنز کو 221 ترک اہلکاروں کی فہرست آئی جس میں بغیر وجوہات کے یے بتایا گیا تھا کہ ترک فوج کے جنرل سٹاف نے ان افسران کو حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ترکی واپس آ جائیں۔

عبداللہ کا کہنا ہے کہ ان کا نام فہرست میں شامل تھا۔ ہم نے ترکی فون کیا کہ خود پر عائد الزامات کے بارے میں جان سکیں تو ہمیں صرف یہ جواب ملا کہ پہلی فلائٹ پکڑیں اور واپس ترکی آ جائیں۔

اس کے بعد 22 نومبر کو ان پر الزام عائد کیا گیا کہ ان کا تعلق گولن تحریک کی ’دہشت گرد تنظیم' سے ہے۔

ان کے ترکی میں اثاثے منجمد کر دیے گئے اور ان کے پاسپورٹ کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اب تک انہیں یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ ترکی کے حکم ناموں کی تکمیل کرنا کسی خطرے سے کم نہیں تھا۔

افسران کے ایک گروپ نے اپنی جائیداد، گاڑیاں جلدی میں فروخت کیں، اپنے بجلی، گیس کے معاہدوں کو ختم کیا اور اکتوبر میں واپسی پر تتقریباً سب کو گرفتار کر لیا گیا۔

اسی عرصے میں نیوی کے ایک افسر کو برسلز سے ہنگامی طور پر ’معیارات‘ طے کرنے کے لیے ہونے والی ایک میٹنگ کے لیے انقرہ میں بلایا گیا۔

ابراہیم کے مطابق مسلح افواج میں سب جانتے ہیں کہ معیارات ایسا موضوع نہیں ہے جسے خفیہ رکھا جائے یا اس کے لیے ہنگامی میٹنگ بلائی جائے۔

'ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ میٹنگ فریب تھا، افسر اس وجہ سے گیا کہ اس میں خوفزدہ ہونے کی کوئی بات نہیں تھی۔ یہ ایک جال تھا۔ اس کو گرفتار کرنے کے بعد جیل بھیج دیا گیا اور وہ اب تک عدالتی کارروائی کا منتظر ہے۔ ابھی تک اس کو الزامات کے بارے میں بھی آگاہ نہیں کیا گیا۔‘

بیلجیئم میں موجود ان کی بیوی اور تین بچوں کو باضابطہ طور پر گرفتاری کے بارے میں نہیں بتایا گیا اور یہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

ابراہیم نے اپنی اور دوسرے خاندانوں کے المیے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ افسر اور افسران کی بیویاں بہت افسردہ ہیں۔ ایک کہانی پر سب کے چہروں پر تلخ مسکراہٹ تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک ساتھی ناکام بغاوت سے کئی دن پہلے سڑک کے حادثے میں شدید زخمی ہو گیا تھا اور بغاوت کے وقت بلجیئم کے ایک ہسپتال میں انتہائی نگہداشت میں زیر علاج تھا اور ہوش میں نہیں تھا تاہم اس پر بھی بغاوت میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔

بیلجیئم میں مقیم زیادہ تر ترک افسران اپنے اہل خانہ کے ساتھ فوج کی رہائش گاہوں میں رہتے ہیں۔ ان میں سے متعدد کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ستمبر تک یہاں سے منتقل ہو جائیں جبکہ موز میں مقیم کو اس وقت تک رہائش کی اجازت دی گئی ہے جب تک ان کے بچوں کا سکول کا سال ختم نہیں ہو جاتا۔

کئی جلدی یہاں سے نکل گئے تاکہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے ایک نئی زندگی شروع کریں جبکہ دیگر اس جواز پر پیچھے رہ گئے کہ انھیں کچھ چھپانے اور خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

عبداللہ کے مطابق ترک فوج کے نمائندوں نے کوشش کی ہے کہ وہ اڈے سے نکل جائیں اور ان کی زندگی مشکل بنانے کی کوشش کی ہے جبکہ نیٹو نے غیر منطقی جواز کے خلاف مزاحمت کی ہے۔

عبداللہ نے اپنا پاسپورٹ دیکھاتے ہوئے کہا کہ'میں نے اپنی پوری زندگی اپنے ملک، پرچم کی خدمت کی ہے اور اب اگرچہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا لیکن پھر بھی مجھے اپنی شناخت چھپانی پڑ رہی ہے۔'

عائز نے کہا کہ'ہمارے خاوندوں نے اپنی روز مرہ زندگی، اپنے خاندان اور ان کے کام کی قربانی دی، انھوں نے ہم سے نہیں بلکہ اپنے کام سے شادی کی۔'

عبداللہ کے مطابق ان کی سب سے بڑی خواہش ہے کہ ترکی مستقبل میں معمول پر لوٹ آئے اور ایسا ملک جس پر ہمیں فخر ہو اور ہم وہاں واپس جا سکیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں