’غیر معمولی شادی‘، 16 سال کا دولھا 70 سال کی دلھن

شادی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دولھے کی عمر 16 جبکہ دلھن کی عمر 71 سے 75 کے درمیان بتائي جا رہی ہے

انڈونیشیا میں روایات اور قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک نوجوان نے 70 سال کی معمر خاتون سے شادی کی ہے۔

اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب شادی کی ویڈیو آن لائن وائرل ہو گئ۔

نوجوان دولھے کی عمر 16 سال ہے اور قانونی طور پر اسے شادی کرنے کا حق نہیں ہے۔ بہر حال جب گاؤں کے لوگوں اور حکام نے اس شادی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تو جوڑے نے خود کشی کی دھمکی دی۔

٭ ’ایک ڈالر میں شادی‘ پر داد تحسین

٭ اب شادی کر لیں

اس کے بعد حکام نے بغیر رجسٹریشن کے شادی کی اجازت دے دی۔

انڈونیشیا قانون کے مطابق شادی کے لیے خواتین کی عمر 16 سال اور مردوں کی عمر 19 سال ہونی چاہیے۔

مقامی میڈیا کے مطابق دونوں میں اس وقت قربت بڑھی جب ملیریا میں مبتلا لڑکے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بزرگ عورت نے سنبھالی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈونیشیا میں شادی کے لیے لڑکی کی کم سے کم عمر 16 جبکہ لڑکے کی 19 ہونی چاہیے

جنوبی سماترا کے اس گاؤں کے سربراہ سک اینی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ 'چونکہ لڑکے کی عمر کم تھی، اس لیے ہم نے شادی کی اجازت بغیر رجسٹریشن کے دے دی۔'

انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'ایک غیر اخلاقی عمل کو روکنے کے لیے دو جولائی کو یہ شادی ہوئی۔ لڑکے کا نام سلامت ہے جبکہ ان کی اہلیہ روہایا کی عمر 71 سے 75 کے درمیان ہو سکتی ہے۔'

اطلاعات کے مطابق لڑکے کے والد کی کئی سال پہلے موت ہو چکی تھی جس کے بعد اس کی والدہ نے دوسری شادی کر لی تھی۔

روہايا کی یہ تیسری شادی ہے اور ان کی پہلی دو شادیوں سے کئی بچے بھی ہیں۔

پیلمبینگ میں وومن كراسس سینٹر کے سماجی کارکن ينني عزی بچوں کی شادی کے خلاف مہم چلاتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ شادی بہت ہی 'غیر معمولی معاملہ' ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شادی کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہی یہ معاملہ دنیا کے سامنے آيا

انھوں نے کہا: 'لڑکے نے شادی کا فیصلہ کسی اقتصادی یا جسمانی وجہ سے نہیں کیا، بلکہ روہايا نے اس کا خیال رکھا اور اسے پیار دیا۔'

انھوں نے مزید بتایا: 'سلامت ابھی اتنا بڑا نہیں ہوا ہے کہ وہ یہ سمجھ سکے کہ محبت حاصل کرنے کے لیے ساتھ رہنا ہی واحد حل ہے۔ اس کے خیال میں ایک ساتھ رہنے کا مطلب شادی ہے۔'

مقامی سرکاری حکام نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ اس سلسلے میں کوئی کارروائی کی جائے گی یا نہیں۔

اخبار جکارتہ پوسٹ نے انڈونیشیا کے سماجی امور کے وزیر خوفیفا اندار پروانسا کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کے لیے اس 'شادی کی اجازت دینا ناممکن تھا کیونکہ لڑکے کی کم عمر ہے۔'

اخبار شريوجيا پوسٹ نے جنوبی سماترا کے گورنر کے حوالے سے کہا ہے کہ 'زیادہ تر معاملات میں لڑکیوں کی ہی شادی کم عمر میں ہوتی ہے۔ لیکن اس شادی کے سلسلے میں ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں