امریکہ کے درجنوں جوہری بجلی گھروں پر سائبر حملہ

جوہری بجلی گھر تصویر کے کاپی رائٹ PERETZP/CC

امریکی ذرائع ابلاغ نے خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک میں مئی اور جون کے دوران درجنوں جوہری بجلی گھروں کو سائبر حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق ان جوہری بجلی گھروں میں کنساس میں واقع وؤلف کریک بجلی گھر بھی شامل ہے۔

کیا جدید ٹیکنالوجی قابل اعتماد ہے؟

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ملک کی داخلی سکیورٹی کے ادارے ہوم لینڈ سکیورٹی نے عندیہ دیا ہے کہ ہیکرز کے حملے میں غیر ملکی طاقت ممکنہ طور پر روس ملوث ہے۔

وولف کریک بجلی گھر چلانے والی کمپنی نے ہیکنگ کے بارے میں بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ' بجلی گھر کی آپریشنل سرگرمیوں پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔'

کمپنی کی ترجمان جینی ہیگمین نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا ہے کہ'یہ حقیقت ہے کہ کیونکہ آپریشنل کمپیورٹرز کارپوریٹ نیٹ ورک سے الگ تھے۔'

ہوم لینڈ سکیورٹی اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ترجمان نے مشترکہ بیان میں کہا کہ'عوامی تحفظ کا لاحق کسی خطرے کے بارے میں کوئی علامت نہیں ملی ہے۔'

نیویارک ٹائمز نے ہوم لینڈ سکیورٹی کی ایک رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ'بظاہر ہیکرز نے کمپیوٹر نیٹ ورکس کی میپنگ کرنے کی کوشش کی تاکہ مستقبل میں حملے کیے جا سکیں۔'

نیویارک ٹائمز کے مطابق ہیکرز نے وائرس سے متاثرہ ای میلز کے ذریعے جوہری بجلی گھر چلانے والی کمپنیوں کے انجینیئرز کو نوکری کی درخواستیں بھیجیں جن میں نقصان دہ کوڈ شامل تھا۔

اس سے پہلے امریکی تحقیقاتی اہلکاروں نے 2015 میں یوکرین میں بجلی کے بریک ڈاؤن کا ذمہ دار روس کو ٹھہرایا تھا۔

خیال رہے کہ کچھ ممالک کی جانب سے دوسرے ممالک کے صعنتی نیٹ ورکس میں مداخلت کے لیے سائبر حملوں کا ہتھیار استعمال کرنے کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔

رواں برس مئی میں دنیا بھر میں ہزاروں کمپیوٹروں پر'وانا کرائی' نامی رینسم ویئر کے ذریعے حملہ کیا گیا تھا جس میں کمپیوٹر پر موجود فائلوں تک رسائی روک دی جاتی تھی اور صارفین سے ان تک رسائی کے لیے تعاوان کی رقم مانگی جاتی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں