دولت اسلامیہ کی شکست، عراقی وزیر اعظم موصل میں

عراق تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

عراق کے وزیر اعظم حیدر العابدی موصل کو شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کے قبضے سے چھڑانے پر فوج کو مبارکباد دینے کے لیے موصل پہنچے ہیں۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وزیر اعظم ملک کے دوسرے بڑے شہر موصل کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے مکمل طور پر آزاد کرائے جانے کا اعلان کریں گے۔

عراقی افواج پچھلے سال اکتوبر سے موصل کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے چھڑانے کی کوششوں میں مصروف تھی اور اس مشن کی تکمیل کے لیے اسے امریکی فضائی حملوں کی بھی مدد حاصل تھی۔

دولت اسلامیہ نے موصل پر جون 2014 میں قبضہ کیا تھا جس کے بعد انھوں نے عراق اور شام کے دوسرے علاقوں میں قبضہ کر کے اپنے 'خلافت' کا اعلان کر دیا تھا۔

لیکن گذشتہ نو مہینے سے حکومت کی فوج سے لڑائی میں ان کو مسلسل نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

عراقی حکومت کی فوج کو کرد پیش مرگا افواج، شیعہ اور سنی جنگجوؤں کی بھی مدد حاصل تھی۔

خیال رہے کہ امریکہ کے فضائی حملے کے تعاون کے تحت کام کرنے والی عراقی فوج گذشتہ سال 17 اکتوبر سے شہر پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے برسرپیکار ہے۔

موصل: ’دولت اسلامیہ‘ کا خودکش بمباروں کا استعمال

موصل کی جنگ، داعش کی دفاعی پوزیشنیں

’عراق میں دولتِ اسلامیہ کا کھیل ختم ہونے والا ہے‘

اس سے قبل عراق کے سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا تھا کہ موصل شہر میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا قبضہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور فورسز کو توقع ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں وہ شہر کا پورا کنٹرول حاصل کر لیں گی۔

اگرچہ ابھی کمانڈرز نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی تاہم وہاں کی گلیوں میں چند عراقی سکیورٹی فورسز کو رقص کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

کیا موصل کی جنگ ختم ہو گئی ہے؟

موصل کا قبضہ واپس حاصل کرنے کے لیے عراقی سکیورٹی فورسز، کرد پیشمرگا جنگجو، سنی عرب قبائلی اور شیعہ ملیشیا کو امریکی اتحاد کے جنگی جہازوں اور فوجیوں کی مدد حاصل ہے۔

حکومت نے رواں برس جنوری میں موصل کی مکمل ' آزادی' کا اعلان کیا تھا۔ تاہم شہر کے مغربی علاقے میں زیادہ چیلنجز ہیں۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے بھی خبردار کیا تھا کہ شاید شہر میں دولتِ اسلامیہ ایک لاکھ افراد کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

گذشتہ برس اکتوبر میں عراقی فوج نے کہا تھا کہ وہاں چھ ہزار جنگجو ہیں۔ اور خیال کیا جا رہا تھا کہ ان میں سے 300 سے کم ایسے تھے جو علاقہ چھوڑنے پر آمادہ نظر نہیں آتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ وہی معروف مسجد ہے جہاں 2014 میں ابو بکر البغدادی نے خلافت کا دعویٰ کیا تھا۔ اس مسجد کے مینار کا جھکاؤ ایک طرف تھا۔

ایک امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 سے اب تک نو لاکھ افراد نے شہر سے نقل مکانی کی۔

گذشتہ مہینے عراق کے وزیراعظم حیدر العابدی نے کہا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے قدیم مسجد کو تباہ کرنا ان کی جانب سے ان کی اپنی شکست کا اعلان ہے تاہم دولتِ اسلامیہ نے ردعمل میں کہا تھا کہ مسجد کی تباہی امریکی بمباری کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں