’یا شیخ میرا عبایہ کیسا ہے؟‘

سعودی عرب تصویر کے کاپی رائٹ @nbaa2t/Twitter

سعودی عرب میں خواتین نے ایک ایسے دینی عالم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جنھوں نے تجویز کیا تھا کہ خواتین کو آرائشی عبایہ اور میک اپ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

محمد الرافع ایک معروف مذہبی سکالر ہیں اور انھوں نے خواتین کے پہننے والے عبایہ کے بارے میں تجویز جاری کی تھی۔ عبایہ عموماً اسلامی ممالک میں پہنا جاتا ہے تاہم اس کے رنگ اور انداز کافی مختلف ہوتے ہیں۔

اتوار کو ٹوئٹر پر ایک پیغام میں محمد الرافع نے کہا تھا کہ ’اے میری بیٹی، ایسا عبایہ مت خریدو جس پر کوئی آرائش ہو، کوئی سجاوٹ یا کڑھائی ہو یا کوئی چاک ہو۔ براہ مہربانی بیٹی کوئی میک اپ نہ ظاہر کرو اور (اسلام سے قبل) زمانہِ جہالت جیسا میک اپ نہ کرو۔‘

بہت سی خواتین نے ان کے اس پیغام کا انتہائی طنزیہ جواب دیتے ہوئے اپنے ملبوسات کی تصاویر شائع کی ہیں اور ان سے منظوری مانگی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ @VEGIALAA/TWITTER
Image caption ایک اور خاتون نے ٹویٹ کیا ’میں اپنے انہتائی خوبصروت عبایہ دیکھانا چاہوں گی۔‘

تاہم محمد الرافع کی ٹویٹ عرب ٹوئٹر (عربی میں ٹوئٹ کرنے والے) پر 31,000 مرتبہ ری ٹوئیٹ کی گئی ہے۔

ایک خاتون نے اپنی عبایہ کی تصویر ٹوئٹ کر کے پوچھا، ’میرے عبایہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے یا شیخ؟ آئندہ میں رنگ برنگے آرائش والے عبایہ خریدوں گی۔ میں ایسی عبایہ خریدنے کی کوشش کروں گی جو لوگ اسلام سے قبل بھی نہیں پہنتے تھے۔‘

ایک اور خاتون نے ٹویٹ کی ’میں اپنے انہتائی خوبصورت عبایہ دکھانا چاہوں گی۔‘

ایک اور صارف نے پوچھا کہ میں اپنے عبایہ پر انتہائی شوخ آرائش کر رہی تھی تو کیا یہ اس ملک کے لیے ٹھیک ہے۔ میں سعودی عرب نہیں فلسطین سے ہوں۔‘

مسلم ممالک کی فیشن صنعت میں عبایہ مقبول ہوتا جا رہا ہے اور اب یہ بین الاقوامی کیٹ واکس پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ مغربی ممالک میں بھی بہت سی دکانیں بشمول ہیرڈز نے اب عبایہ رکھنے شروع کر دیے ہیں اور عالمی ڈزائنرز بھی یہ بنانے لگے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANA_IBA2/TWITTER
Image caption ایک اور صارف نے پوچھا کہ میں اپنی عبایہ پر انتہائی شوخ آرائش کر رہی تھی تو کیا یہ اس ملک کے لیے ٹھیک ہے۔ میں سعودی عرب نہیں فلسطین سے ہوں۔‘

مگر سعودی عرب میں بہت سے لوگوں کے لیے عبایہ فیش سے زیادہ مذہب کا معاملہ ہے۔ اور سعودی عرب جیسے انتہائی قدامت پسند ملک میں اس خیال کو کہ عبایہ فیشن سٹیٹمنٹ اور مذہبی ضرورت ہو ہو سکتا ہے، ایک تضاد سمجھا جاتا ہے۔ اس معاشرے میں خواتین پر یہ لازم سمجھا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مردوں سے بچانے کے لیے سادگی اختیار کریں۔

دسمبر 2016 میں کچھ سعودی خواتین کے ریاض کی ایک گلی میں بغیر عبایہ کے کھڑے ہوئے تصویر سے سوشل میڈیا پر بہت تنقید کی گئی تھی اور اس خاتون کی گرفتاری کے مطالبے بھی کیے گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں