جاپان کا عورتوں کے لیے ممنوع جزیرہ عالمی ورثہ قرار

اوکینوشیما تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یہاں ہر سال صرف 200 افراد کو آنے کی اجازت ہے

اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو نے جاپان میں قدیم مذہبی حیثیت رکھنے والے اس جزیرے کو عالمی ورثہ قرار دے دیا ہے جہاں عورتوں کا داخلہ منع ہے۔

اوکینو شیما پر سترہویں صدی میں اوکیستو نامی عبادت گاہ بنائی گئی جہاں سمندر میں جانے والوں کی خیریت کے لیے دعا کی جاتی تھی۔ اوکینو شیما پر سترہویں صدی میں اوکیستو نامی عبادت گاہ بنائی گئی۔

جزیرے پر اترنے سے پہلے مردوں کو اپنے کپڑے اتار کر پاک ہونے کی رسم ادا کرنی ہوتی ہے۔

واپسی پر انہں یہاں سے کوئی بھی چیز بطور نشانی لے جانے کی اجازت نہیں اور نہ ہی وہ یہاں کے دورے کی تفصیلات کسی کو بتا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہاں سترہویں صدی میں اوکیستو نامی عبادت گاہ بنائی گئی

جاپان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جب یہ عبادت گاہ تعمیر کی گئی تھی اوکینو شیما پر سمندر میں جانے والے جہازوں اور چین اور کوریا کے لوگوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کے لیے دعا کی جاتی تھی۔

اس جزیرے پر ہزاروں نوادارات بطور تحفہ لائے گئے جن میں کوریا سے لائی جانے والی سونے کی انگوٹھیاں شامل ہیں۔

اس جزیرے پر ہر سال میں صرف ایک دن کے لیے لوگوں کو جانے کی اجازت ہے۔ یہ قدیم روایت ہے جو اب بھی قائم ہے۔

یہاں آنے والوں کی تعداد بھی صرف 200 افراد تک محدود ہے۔ انہیں لازمی طور پر سمندر میں طہارت کا عمل کرنا ہوتا ہے اور سب سے متنازع چیز ان کا مرد ہونا لازم ہے۔

اسی بارے میں