’دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی‘

سٹیفن ٹاؤنسینڈ تصویر کے کاپی رائٹ THOMAS WATKINS/AFP/GETTY IMAGES
Image caption سٹیفن ٹاؤنسینڈ عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف آپریشن میں امریکی قیادت والی کمانڈ کے سربراہ ہیں

عراق میں سینیئر امریکی کمانڈر نے متنبہ کیا ہے کہ موصل میں ’تاریخی‘ کامیابی کے باوجود شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ کا ابھی خاتمہ نہیں ہوا ہے۔

جنرل سٹیفن ٹاؤنسینڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو ابھی تک عراق میں موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عراق میں حکومت کو سنی برادری سے بات چیت کرنی چاہیے تاکہ اس دہشت گرد تنظیم کو تجدید نو سے روکا جائے۔

٭ دولت اسلامیہ کی شکست، عراقی وزیر اعظم موصل میں

٭ موصل: ’دولت اسلامیہ‘ کا خودکش بمباروں کا استعمال

٭ ’عراق میں دولتِ اسلامیہ کا کھیل ختم ہونے والا ہے‘

انھوں نے کہا: 'اگر ہمیں دولت اسلامیہ کو دوبارہ ابھرنے سے روکنا ہے تو عراقی حکومت کو کچھ مختلف ہی کرنا ہوگا۔

'انھیں سنی برادری تک پہنچنا ہوگا اور ان سے مصالحت کرنی ہوگی اور انھیں یہ باور کرانا ہوگا کہ بغداد میں حکومت ان کی نمائندگی کرتی ہے۔'

خیال رہے کہ تقریباً نو مہینوں تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد گذشتہ روز وزیراعظم حیدر العبادی نے موصل میں دولت اسلامیہ کے خلاف باضابطہ طور پر فتح کا اعلان کیا ہے۔

اس جنگ کی وجہ سے موصل کے علاقے میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، ہزاروں شہری مارے گئے ہیں اور تقریباً سوا نو لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

حیدر العبادی نے قومی پرچم لہراتے ہوئے اعلان کیا کہ ’باطل دہشت گرد حکومت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@IRAQIPMO
Image caption وزیر اعظم حیدر العبادی نے باضابطہ طور پر عراقی پرچم لہرا کر موصل میں دولت اسلامیہ کے خلاف فتح کا اعلان کیا

منگل کو اپنی ایک رپورٹ میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ عراقی اور اتحادی افواج نے انتہائی گنجان آبادی والے علاقوں میں غیر ضروری طور پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایمنسٹی نے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں پر سنگین جرائم کے مرتکب ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔

عراقی فوج کو فضائی اور زمینی امداد فراہم کرنے والی اتحادی افواج کے کمانڈروں نے کہا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے شہری علاقوں میں ہونے والی یہ شدید ترین جنگ رہی ہے۔

وزیر اعظم عبادی نے اس فوجی دستے کے کنٹرول روم سے فتح کا اعلان کیا ہے جس کی الیٹ فورس نومبر میں موصل میں داخل ہوئی تھی۔

امریکی صدر نے اپنے عراقی ہم منصب کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ موصل دولت اسلامیہ کے زیر حکومت 'طویل خوفناک خواب سے آزاد ہو گيا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوام متحدہ کے مطابق موصل کے قدیم شہر میں سینکڑوں مکانات کو نقصان پہنچا ہے

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ 'ہم دولت اسلامیہ کے ہاتھوں مارے جانے والے عراقیوں شہریوں کی موت اور لاکھوں عراقیوں کی پریشانیوں پر ماتم کناں ہیں' اور ہم جہادیوں کی 'مکمل بربادی' چاہتے ہیں۔

امریکہ کی سربراہی والے اتحاد نے تصدیق کی ہے کہ قدیم شہر کو ابھی بھی دھماکہ خیز مادوں اور ممکنہ طور پر بعض چھپے ہوئے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے پاک کرنا ہے جبکہ عراقی سیکورٹی فورسز پوری طرح سے موصل پر کنٹرول رکھے ہوئے ہے۔

موصل شہر کو جنگ سے کافی نقصان پہنچا ہے اور اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق پانچ ہزار گھر تباہ ہوئے ہیں جن میں سے 490 گھر صرف قدیم شہر کے ہیں۔

عراق میں اقوام متحدہ کی انسانی بنیادوں پر امداد کی کوارڈینیٹر لیزا گراندے نے کہا: 'یہ جان کر اطمینان ہوا کہ موصل میں عسکری مہم ختم ہو رہی ہے۔ لڑائی ختم ہو سکتی ہے لیکن انسانی بحران ختم نہیں ہوا ہے۔ بہت سے لوگ جو وہاں سے بھاگے ہیں انھوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے۔ انھیں پناہ، خوارک، طبی امداد، پینے کے پانی، حفضان صحت اور ایمرجنسی کٹ کی ضرورت ہوگی۔'

خیال رہے کہ دولت اسلامیہ نے موصل پر جون 2014 میں قبضہ کیا تھا جس کے بعد انھوں نے عراق اور شام کے دوسرے علاقوں میں قبضہ کر کے اپنے 'خلافت' کا اعلان کر دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں