کرپشن پر برازیل کے سابق صدر لوئیز لولا ڈی سلوا کو قید کی سزا

لوئیز لولا ڈی سلوا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

برازیل کے سابق صدر لوئیز لولا ڈی سلوا کو کرپشن کے الزامات پر مجرم قرار دیتے ہوئے ساڑھے نو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس مقدمے کے جج کا کہنا ہے کہ لوئیز لولا ڈی سلوا اس فیصلے کے خلاف ایپل کر سکتے ہیں۔

برازیل: 'سابق صدر پر مقدمہ سپریم کورٹ خود سنے گی'

برازیلی پولیس کا سابق صدر کی رہائش گاہ پر چھاپہ

برازیل کے سابق صدر نے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے کہ انھوں نے ریاستی آئل کمپنی پیٹروبراس میں بدعنوانی کے حوالے سے رشوت کے طور پر ایک اپارٹمنٹ لیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف یہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے۔ انھوں نے سختی سے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

لوئیز لولا ڈی سلوا دو مرتبہ برازیل کے صدر منتخب ہوئے تھے اور انھوں نے یہ عہدہ سنہ 2011 میں چھوڑا تھا۔

ان کے وکلا نے ایک بیان میں زور دیا ہے کہ ان کے موکل بے قصور ہیں اور وہ اس کے خلاف ایپل کریں گے۔

ریو میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار کیٹی واٹسن کا کہنا ہے کہ لوئیز لولا ڈی سلوا ایک مقبول سیاستدان رہے ہیں اور یہ فیصلہ برازیل کو مزید تقسیم کر دے گا۔

متعلقہ عنوانات