آسٹریلین شخص کے ہاتھ میں پاؤں کا انگوٹھا لگا دیا گیا

مچل تصویر کے کاپی رائٹ SOUTH EASTERN SYDNEY LOCAL HEALTH DISTRICT

ایک آسٹریلین شخص کے ہاتھ کے انگوٹھے میں آپریشن کر کے اس کے پاؤں کا انگوٹھا لگا دیا گیا ہے۔ اس شخص کا انگوٹھا ایک بیل نے ٹھوکر مار کر الگ کر دیا تھا۔

20 سالہ زیک مچل اپریل میں ویسٹرن آسٹریلیا کے ایک دور دراز علاقے میں اپنے فارم پر زخمی ہو گئے تھے۔

انھوں نے اس حادثے کے بعد کہا: 'بیل نے جنگلے میں سے میرے ہاتھ کو ٹھوکر مار دی تھی۔'

انگوٹھا جوڑنے کے لیے ان کے دو ناکام آپریشن ہوئے، جس کے بعد ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ ان کے پاؤں کا انگوٹھا کاٹ کر ہاتھ میں لگا دیا جائے۔ یہ آپریشن آٹھ گھنٹوں تک جاری رہا۔

مچل نے کہا کہ ان کے ساتھیوں نے کٹا ہوا انگوٹھا محفوظ رکھنے کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'انھوں نے اسے برف میں ڈال کر کولر میں رکھ دیا تھا۔'

اس کے بعد مویشیوں کے رکھوالے مچل کو ریاستی دارالحکومت پرتھ لے جایا گیا، تاہم ان کا انگوٹھا بچانے کی کوششیں کامیاب ثابت نہ ہو سکیں۔

شروع میں کسی قدر ہچکچاہٹ کے بعد انھوں نے ایک ہفتہ قبل سڈنی کے آئی ہاسپیٹل میں آپریشن کروانے کا فیصلہ کر لیا۔

پلاسٹک سرجن ڈاکٹر شان نکلن کہتے ہیں کہ انھیں بات پر حیرت نہیں ہے کہ مچل کو فیصلہ کرنے میں وقت لگا: 'یہ کسی قدر عجیب و غریب بات ہے۔ لوگ نہیں چاہتے کہ ان کے جسم کا کوئی اور حصہ بھی زخمی ہو جائے۔

انھوں نے کہا کہ اگر آپ کی چار انگلیوں سلامت بھی ہوں تب بھی کسی چیز کو پکڑنے کے لیے انگوٹھا نہ ہو تو ہاتھ کے فعل کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔

مچل کے ہاتھ کو مکمل طور پر صحت یاب ہونے کے لیے ابھی 12 ماہ درکار ہیں، تاہم وہ اپنا کام دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں