الیکشن کے نتائج سن کر رو پڑی: ٹریزا مے

مے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے انکشاف کیا ہے کہ جب ان کو الیکشن کے نتائج کا علم ہوا جس سے بات واضح ہوئی کہ وہ اکثریت کھو بیٹھیں گی تو 'میرے آنسو' نکل آئے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے شوہر نے ان کو خبر سنائی اور یہ خبر ان کے لیے ایک دھچکہ تھی۔

برطانوی انتخابات: پاؤنڈ کی قدر میں تیزی سے کمی

انھوں نے بی بی سی ریڈیو فائیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'مجھے اس خبر کو سمجھنے میں کچھ دیر لگی کیونکہ ہم ایسے نتیجے کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ میرے شوہر نے مجھے گلے سے لگایا اور میں کچھ دیر روئی۔'

برطانوی وزیر اعظم نے بتایا کہ انھوں نے خود الیکشن کے نتائج سے قبل آنے والے ایگزٹ پول نہیں دیکھے تھے کیونکہ 'میں ایسے معاملات میں تھوڑی توہم پرست ہوں۔'

ٹریزا مے نے کہا کہ ان کو معلوم ہے کہ ان کی مہم شاندار نہیں رہی لیکن ان کو جو اشارے مل رہے تھے وہ یہ تھے کہ پارلیمنٹ میں پارٹی کی سیٹوں میں اضافہ ہو گا۔

واضح رہے کہ الیکشن سے قبل کنزرویٹو جماعت کو لیبر پر 20 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی لیکن انتخابات میں نہ صرف یہ برتری کھو دی بلکہ 22 سیٹیں بھی کھو دیں۔

الیکشن کے بعد نتائج پر رد عمل پر پہلی بار بات کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ کچھ دیر تو وہ سکتے میں تھیں اور پھر انھوں نے کنزرویٹیو جماعت کے ہیڈ کوارٹر فون کر کے دریافت کیا۔

انھوں نے کہا کہ جن لوگوں کے ساتھ سالوں کام کیا تھا ان کو اپنی نشستیں ہارتے ہوئے دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹریزا مے کے شوہر نے ان کو خبر سنائی اور یہ خبر ان کے لیے ایک دھچکہ تھی

'میں نے مستعفی ہونے کے بارے میں نہیں سوچا کیونکہ مجھے لگا کہ یہ ذمہ داری ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ملک میں حکومت قائم رہے۔'

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کو انتخابات کا اعلان کرنے پر پچھتاوا ہے تو انھوں نے کہا کہ نہیں کیونکہ 'میرے خیال میں اس وقت ایسا کرنا صحیح تھا'۔

تاہم انھوں نے کہا کہ کاش مہم کے دوران زیادہ مثبت پیغام عوام تک پہنچاتی اور نوجوانوں کے تحفظات کو دور کرتی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں