قطر کے بحران کے حل کے لیے امریکہ اور سعودی عرب میں رابطہ

ڈونلڈ ٹرمپ، شاہ سلمان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان نے قطر اور چار خلیجی ریاستوں کے مابین جاری سفارتی تنازعے پر تبادلۂ خیال کیا ہے جس میں اس مسئلے کے حل کے مختلف آپشنز زیرِ بحث آئے ہیں۔

دونوں رہنماوں کے درمیان یہ گفتگو ٹیلی فون پر ہوئی تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انھوں نے کتنی دیر تک بات چیت کی۔

گذشتہ ماہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

قطر اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی کی چار وجوہات

ادنیٰ سا قطر خلیجی ممالک کو کھٹکتا کیوں ہے؟

قطر کے بحران سے ایران کی چاندی؟

ان چاروں ممالک کا الزام ہے کہ قطر خطے میں دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے جبکہ قطر ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

اس پیش رفت سے خطے میں ایسا سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے جس کی ماضی قریب میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے مطالبات کی فہرست حاصل کی ہے۔

قطر سے کیا مطالبات کیے گئے ہیں ؟

  • قطر عرب ممالک کی جانب سے پابندی کا شکار اخوان المسلمون سے تمام تعلقات توڑ لے۔
  • چاروں ممالک کے شہریوں کو بےدخل کر دے تاکہ بقول ان ممالک کے قطر کو ان کے داخلی معاملات میں دخل اندازی سے روکا جا سکے۔
  • چاروں ممالک کو دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تمام افراد کو ان ممالک کے حوالے کرے۔
  • ایسے شدت پسند گروہوں کی مالی امداد بند کرے جنھیں امریکہ نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔
  • سعودی عرب اور دیگر ممالک کی ان حکومت مخالف شخصیات کی فہرست فراہم کرے جنھیں قطر نے مالی مدد فراہم کی ہے۔
  • سیاسی، اقتصادی اور دیگر معاملات میں خلیج تعاون کونسل کے موقف سے ہم آہنگی پیدا کرے۔
  • الجزیرہ کے علاوہ اعرابی21 اور مڈل ایسٹ آئی جیسے خبر رساں اداروں کی مالی مدد بند کرے۔
  • مالی ہرجانہ ادا کرے

وجۂ نزع کیا ہے؟

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین قطر پر دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 20 سال سے قطر اخوان المسلمون، القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ جیسے گروپوں کی حمایت کر کے خطے کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ قطر نے سنہ 2014 میں ایسے گروہوں کی مدد ترک کرنے کا وعدہ کیا تھا جو وفا نہیں ہوا۔

یہ ممالک قطر پر عراق میں اغوا کی جانے والی شاہی شکاری پارٹی کی رہائی کے لیے ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کو ایک ارب ڈالر کی رقم بطور تاوان ادا کرنے کا الزام بھی لگاتے ہیں۔

قطر کا کیا موقف ہے؟

قطر دہشت گردوں کی حمایت اور دہشت گرد گروپوں کو تاوان کی ادائیگی کے الزامات سے انکار کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس تنازعے کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں اور اصل بات یہ ہے کہ اس کے طاقتور ہمسائے اس کی خارجہ پالیسی کو سعودی خارجہ پالیسی کے مطابق بنانا چاہتے ہیں۔ قطر کے وزیرِ خارجہ نے اس اقدام کو ملک کی سالمیت پر حملہ قرار دیا ہے۔

عرب ممالک کے مطالبات کیا ہیں؟

سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے پیش کیے گئے 13 مطالبات میں ٹی وی چینل الجزیرہ کی بندش بھی شامل ہے جو کہ قطر کے ہمسایہ ممالک کو بری طرح کھٹکتا ہے۔

قطرسے ترک فوجی اڈے کی بندش کے لیے بھی کہا گیا ہے جہاں حال ہی میں مزید فوجی اور بکتربند گاڑیاں تعینات کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ یہ ممالک چاہتے ہیں کہ قطر ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کمی لائے۔

امریکی پوزیشن کیا ہے؟

امریکہ جو کہ یہ تنازع حل کروانے کے لیے کوشاں ہے، ان مطالبات سے خوش دکھائی نہیں دیتا اور اس نے کہا ہے کہ مطالبات مناسب اور قابلِ عمل ہونے چاہییں۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ قطر اور اس کے خلیجی ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تنازع 'خاندانی معاملہ' ہے۔

پریس سیکریٹری شان سپائسر کا کہنا تھا 'اس معاملے میں جو چار ممالک ملوث ہیں، ہمارا ماننا ہے کہ یہ ایک فیملی معاملہ ہے اور اسے انھیں (آپس میں ہی) حل کرنا چاہیے۔'

اسی بارے میں