ناکام بغاوت کے ایک سال بعد ترکی میں ہزاروں برطرفیاں

ترکی تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ترکی کی حکومت نے گذشتہ سال جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کا ایک سال مکمل ہونے سے پہلے سات ہزار سے زیادہ پولیس، وزارتوں اور تعلیمی اداروں کے ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔

یہ برطرفیاں گذشتہ سال ملک میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے ردِ عمل میں کی گئی ہیں جن کا مقصد سرکاری اداروں جن میں عدلیہ، پولیس اور تعلیمی ادارے شامل ہیں سے حکومت مخالف عناصر کا خاتمہ ہے۔

ترکی میں سنیچر کو گذشہ سال ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کا ایک سال مکمل ہو جائے گا۔ اس تشدد کے دوران 250 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

ترکی میں مزید چار ہزار اہلکار برطرف

ترکی میں 'گولن سے روابط' رکھنے والے نو ہزار پولیس اہلکار برطرف

ترکی میں 'گولن تحریک کے ایک ہزار حامی' گرفتار

ترک حکام گذشتہ سال ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کا الزام امریکہ میں جلا وطنی کی زندگی اختیار کرنے والے ترک رہنما فتح اللہ گولین پر عائد کرتے ہیں جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔

ترکی میں ہونے والی تازہ ترین برطرفیوں کا حکم پانچ جون کو جاری کیا گیا تاہم انھیں جمعے کو سرکاری گزٹ کی جانب سے شائع کیا گیا۔

حکم میں کہا گیا ہے کہ یہ ملازم ایسے افراد ہیں 'جن کے بارے میں تعین کیا گیا ہے کہ وہ ریاست کی سکیورٹی کے خلاف کام کر رہے ہیں یا پھر وہ دہشت گرد تنظیم کے ارکان ہیں۔'

برطرف کیے جانے والے ملازمین میں 2,303 پولیس اہلکار اور 302 یونیورسٹی ملازمین بھی شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 342 ریٹائرڈ افسران اور سپاہیوں سے ان کے منصب اور درجات واپس لے گئے ہیں۔

ترکی میں گذشتہ سال ناکام فوجی بغاوت کی کوشش کے بعد سے 150,000 سے زیادہ اہلکاروں کو پہلے ہی برطرف جبکہ فوج، پولیس اور دیگر اداروں سے 50,000 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات حفاظتی خطرات کی وجہ سے لازمی ہیں تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر طیب رجب اردوغان سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کے لیے ان اقدامات کا استعمال کرتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں