قطر پر سعودی عرب کا دباؤ بے اثر

قطر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سعودی عرب نے قطر پر دہشت گرد تنظیموں کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہوئے اس کے ساتھ گذشتہ ماہ تمام سفارتی تعلقات ختم کر دیے تھے لیکن قطر پر اس اقدام کا زیادہ اثر پڑتا نظر نہیں آتا۔

سعودی عرب کے ساتھ متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، بحرین اور مصر نے بھی قطر کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کیے۔ اس کے بعد یمن، لیبیا اور مالدیپ نے بھی قطر سے دوری اختیار کر لی۔

٭ قطر خلیجی ممالک کو کھٹکتا کیوں ہے؟

٭ قطر کے بحران کے حل کے لیے امریکہ اور سعودی عرب میں رابطہ

٭ قطر کے بحران سے ایران کی چاندی؟

٭ قطر کے ساتھ کشیدگی کی چار وجوہات

سعودی عرب نے قطر کو 13 شرائط ماننے کے لیے کہا تھا، جن میں دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ اتحاد ختم کرنے سے لے کر الجزیرہ ٹی وی کی بندش شامل تھی۔ ادھر قطر نے کسی بھی شرط کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور وہ اپنی ضروریات کا سامان ایران اور ترکی سے درآمد کر رہا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ جس مقصد کے ساتھ عرب ممالک نے قطر کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کیے تھے وہ الٹا اثر کرنے لگے ہیں۔

ایران اور ترکی کا ساتھ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قطر کھانے پینے کی ایشیا دوسرے ممالک سے درآمد کرتا ہے

قطر کی 27 لاکھ عوام کے لیے زیادہ تر ضروری سامان درآمد کیا جاتا ہے۔ اس میں سے تقریباً 40 فیصد خوردنی مواد سعودی عرب کی سرحد سے آتا ہے۔

سعودی عرب کے قطر سے رشتے ختم کرنے کے بعد ترکی اور ایران اس کی مدد کے لیے سامنے آ گئے۔ اس کی وجہ سے ایک طرف تو ایران کے کاروبار کو فائدہ ہوا وہیں دوحہ اور تہران کے درمیان سفارتی تعلقات بھی اچھے ہونے لگے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر رورے ملر کے مطابق قطر پر پابندی مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ سعودی عرب اور یو اے ای نے جس اتحاد کے تحت ساحلی علاقے میں اپنی اجارہ داری جمانے کی کوشش کی تھی، اس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس کے برعکس ترکی نے قطر کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کر لیے ہیں۔

صورتحال کو بڑھا چڑھا کر دکھایا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکی صدر کے سعودی عرب کے دورے کے بعد قطر کے خلاف اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا

لندن میں رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز میں جزیرہ نما عرب کے ماہر پیٹر سیلسبری کے خیال میں حالات کو بہت بڑھا چڑھا کر دکھایا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق سعودی عرب کو اپنی منصوبہ بندی میں زیادہ کامیابی نہیں ملی لیکن یہ کہنا کہ قطر اور ایران انتہائی قریب آ گئے ہیں، یہ بھی مکمل حقیقت نہیں ہے۔

قطر اور ایران کے درمیان ہمیشہ سے ایک فاصلہ رہا ہے۔ اس وقت ایران قطر کو خوراک مواد صرف اس لیے مہیا کروا رہا ہے کیونکہ وہ سعودی عرب کی پوزیشن کو خراب کرنا چاہتا ہے۔

دہشت گرد تنظیموں پر لگام

قطر کے سامنے رکھی گئی شرائط میں ایک اہم شرط اخوان المسلمون، حماس، دیگر اسلامی تنظیموں اور ایران کی طرف سے حمایت فوجی تنظیموں کے ساتھ تعلقات توڑنا شامل تھا۔

رورے ملر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی آزادی اور خود مختاری کو بچائے رکھنے کے لیے قطر ان تنظیموں کے خلاف زیادہ سخت رخ نہیں اپنا سکتا۔

ملر کے مطابق اس ہفتے امریکہ اور قطر کے درمیان ہونے والا انسداد دہشت گردی کا معاہدہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

دوسری کسی منصوبہ بندی کی کمی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قطر دوسرے ممالک کو گیس برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک ہے

سعودی عرب، بحرین، مصر اور متحدہ عرب امارات کے قطر کی طرف سے کسی قسم کا رد عمل نہ دینے کی صورت میں مناسب وقت پر مختلف اقدامت اٹھانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ تاہم رورے ملر کا خیال ہے کہ سعودی عرب اور اس کے ساتھی ممالک کے پاس قطر کے لیے کوئی’ پلان بی‘ تیار نہیں ہے۔

رورے کا کہنا ہے، ’قطر مخالف ممالک اب زیادہ سخت قدم نہیں اٹھا سکتے، کیونکہ ان کے اوپر بھی بین الاقوامی دباؤ بن گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران اور ترکی کی موجودگی بھی ان قدم روک رہی ہے۔‘

تیل کی طلب

ماہر پیٹر سیلسبری کہتے ہیں کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی متحدہ قطر پر پابندیوں کی مدد سے اسے اقتصادی طور پر کمزور بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف قطر اپنے قدرتی تیل کے ذخائر برآمد کرکے اپنی ضرورتوں کو پورا کر رہا ہے۔

ان کے بقول جب تک گیس کی طلب اور اس کی قیمتیں بڑھتی رہیں گی، قطر اپنی ضرورتیں پوری کرتا رہے گا اور اس پر لگنے والے پابندی مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔

اسی بارے میں