18 بلیوں کو مارنے کے جرم میں 16 سال قید کی سزا

بلی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2015 میں کئی بلیاں سان ہوزے میں کیمبرین پارک کے علاقے میں لاپتہ ہوگئی تھیں (فائل فوٹو)

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ہوزے میں عدالت نے ایک شخص کو 18 بلیاں مارنے کے جرم میں 16 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

26 سالہ رابرٹ فارمر نے ان بلیوں کے چوری کرنے اور ان پر تشدد کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

سانتا کلارا سپیریئر کوٹ میں ایک جج نے ماری جانے والی ہر بلی کا نام سزا پڑھ کر سنایا۔

ماہرین کے مطابق ایک بلی کے ساتھ جنسی زیادتی کے شواہد بھی ملے ہیں۔

رابرٹ فارمر نے یہ جرم سان ہوزے میں سنہ 2015 میں کیا تھا۔ وہ اسی سال اکتوبر میں ایک مردہ بلی کے ہمراہ اپنی گاڑی میں سوئے ہوئے پائے گئے تھے اور گاڑی میں بلی کے بالوں کے کچھ حصے بکھرے ہوئے تھے۔

سنہ 2015 میں یہ تمام بلیاں سان ہوزے میں کیمبرین پارک کے علاقے میں لاپتہ ہوگئی تھیں۔ ان میں کئی مردہ حالت میں ملی جبکہ دو کوڑا دان سے برآمد ہوئی تھیں۔

دی مرکری نیوز ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کیمرے کی ویڈیو فٹیج میں ایک شخص کو گوگو نامی 17 سالہ بلی اٹھائے دیکھا گیا تھا۔ مقامی رہائشیوں نے رابرٹ فارمر کے بارے میں پولیس کو مطلع کیا۔

گوگو نامی بلی بھی اس بلیوں میں شامل تھی جو لاپتہ ہونے کے بعد دوبارہ کبھی نہ مل سکی۔

رابرٹ فارمر نے جانوروں پر ظلم کے 21 جرائم کا اعتراف کیا ہے جن میں 18 بلیوں کو جان سے مار ڈالنا اور تین کو زخمی کرنا شامل تھا۔

رابرٹ فارمر کے وکیل نے ان کی جانب سے ایک خط پڑھ کر سنانا جس میں انھوں نے کہا کہ 'ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ جرائم کسی اور نے کیے ہیں، لیکن میں جانتا ہوں یہ میں ہی تھا۔ یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ میں نے ایسا کیا۔ میں نے ان کے خاندان کے افراد کو چوری کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ میں ہوش میں نہیں تھا اور اس کی کوئی توجیح نہیں ہے۔'

سانتا کلارا کاؤنٹی کی ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی الیگزینڈرا ایلس نے یہ خط نرم دلی حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

اس کے علاوہ رابرٹ فارمر کی قید کی سزا ختم ہونے کے بعد کوئی پالتو جانور رکھنے یا دیکھ بھال کرنے پر بھی دس سال تک پابندی عائد کی گئی ہے اور انھیں کیمبرین پارک کے علاقے سے دور رہنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں