چھ ماہ میں تیزاب پھینکنے کے 400 سے زیادہ حملے

ندن میں کلب
Image caption اپریل میں لندن میں کلب جانے والے افراد پر تیزاب پھینکا گیا جس میں 20 افراد زخمی ہوئے

انگلینڈ اور ویلز میں تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافے کے بعد ان واقعات میں ملوث افراد کی سزاؤں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

جمعرات کو مشرقی لندن میں پانچ افراد پر تیزاب پھینکنے کے واقعات کے بعد وزراء پر تیزاب سے متعلق سخت قانون کے مطالبات میں شدت آئی ہے جس میں تیزاب کی فروخت کو سخت کرنے کے لیے آوازیں بڑھتی جا رہی ہیں۔

٭ برطانیہ میں تیزاب حملوں میں اضافہ کیوں؟

٭ لندن تیزاب پھینکنے کے شبہے میں ایک نوجوان گرفتار

٭ جائیداد کا تنازع: خاتون پر پانچویں بار تیزاب پھینکا گیا

٭ انڈیا: شادی سے انکار، خاتون نے عاشق پر تیزاب پھینک دیا

پولیس کے مطابق تیزاب پھینکے جانے کے واقعات میں 2012 سے دو گنا اضافہ ہوا ہے اور ایسے واقعات زیادہ تر لندن ہی میں ہوئے ہیں۔

تیزاب حملوں کے بعد ان کی روک تھام کے جائزے کے متعلق وزیر داخلہ امبر روڈ نے سنڈے ٹائمز کو بتایا ہے کہ ان حملوں میں ملوث افراد' قانون کی پوری شدت' کو محسوس کر سکیں گے۔

سیاست دانوں اور تیزاب کے حملوں میں متاثرہ افراد نے ان حملوں میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دینے کے مطالبات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ رکن پارلیمان بھی اس معاملے پر پیر کو ایوان میں بحث کریں گے۔

تیزاب کے حملوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے جائزے میں موجودہ قانون کو دیکھا جائے گا اور اس بات پر غور کیا جائے گا کہ پولیس کے اقدامات، سزائیں، لوگوں کی نقصان دہ تیزابی منصوعات تک رسائی اور تیزاب حملوں کے متاثرین کو کس طرح مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption گذشتہ دنوں مشرقی لندن میں شہریوں پر تیزاب پھینکنے کے پانچ واقعات پیش آئے ہیں

دفتر داخلہ کے مطابق پہلے سے موجود قانون کے تحت نقصان دہ تیزابی مواد سے حملے میں عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ تیزاب برآمد ہونے کی صورت میں، اس کی مدد سے حملے کرنے کی نیت ثابت ہونے کی صورت میں چار برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

نیشنل پولیس چیفس کونسل این پی سی سی کا کہنا ہے کہ چھ ماہ کے دوران انگلینڈ اور ویلز میں تیزاب یا نقصان دے مواد کی مدد سے چار سو زیادہ حملے کیے گئے ہیں۔

ان حملوں میں ملوث جن افراد کے بارے میں معلوم ہوا ہے جن میں سے پانچ میں سے ایک کی عمر 18 برس سے کم ہے۔

جمعرات کو لندن میں تیزاب کے حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شبہے میں ایک سولہ برس کے نوجوان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ ایمبر رود نے تیزاب حملوں کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ہے کہ' تیزاب حملے خوفناک جرائم ہیں جن کے متاثرین پر جسمانی اور نفسیاتی طور پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ 'یہ بہت ضروری ہے کہ اس طرح کے بیزار کن حملوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔'

Image caption تیزاب حملے کی متاثرہ کیٹی پائپر کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے متاثرین کو 'عمر قید' کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ان حملوں میں ملوث افراد کو بھی سخت سزائیں دینی چاہیں'

وزیر داخلہ ایمبر رود نے کہا ہے کہ ان واقعات سے متعلق قانون پہلے ہی کافی سخت ہے جس میں کئی کیسوں میں تیزاب حملوں کے مجرم عمر قید تک کاٹ رہے ہیں لیکن ہمیں جوابی اقدام کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور ہم اسے بہتر کریں گے۔

پیر کو لیبر پارٹی کے رکن پارلیمان سٹیفن ٹمز کی قیادت میں برطانوی ایوان میں تیزاب حملوں سے متعلق بحت ہونے جا رہی ہے۔

سٹیفن ٹمز کا مطالبہ ہے کہ تیزاب ساتھ رکھنے کو ایسا ہی جرم قرار دیا جائے جیسا کہ چاقو رکھنا ہے۔

موجودہ قانون کے تحت اگر پولیس کسی ایسے شخص کو روکتی ہے جس کے پاس تیزاب ہے تو پولیس کو یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ تیزاب کا استعمال غلط مقاصد کے لیے کیا جانا تھا۔

تیزاب حملے کی متاثرہ کیٹی پائپر کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے متاثرین کو' عمر قید' کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ان حملوں میں ملوث افراد کو بھی سخت سزائیں دینی چاہیں۔'

جمعرات کو جریدے سکارز، برنز اینڈ ہیلنگ میڈیکل میں شائع ہونے والے خط میں انھوں نے لکھا ہے کہ' مجھے مستقل آپریشنز اور چہرے کی تھیراپی کی ضرورت پڑتی ہے۔ تیزاب حملے کے متاثرین کے لیے بعد میں صورتحال ایسی ہی ہوتی ہے جیسا کہ عمر قید۔'

تصویر کے کاپی رائٹ RESHAM KHAN
Image caption ریشم خان اور ان کے کزن جمیل مختار پر گاڑی کے شیشے سے تیزاب پھینکا گیا جس کے باعث وہ بری طرح جھلس گئے

جائزے میں کیا کیا شامل ہے

  • آیا ججوں کے پاس تیزاب حملوں میں ملوث افراد کو سزائیں دینے کے وافر اختیارات موجود ہیں۔
  • تیزاب حملوں کو روکنے کے لیے پولیس افسران کے لیے نیا ہدایت نامہ، جس میں مشتبہ حملہ آوروں کی تلاش اور جائے وقوعہ پر متاثرین کی مدد۔
  • زہریلے مواد سے متعلق 1972 کے ایکٹ کا جائزہ لینا کہ آیا یہ دیگر نقصان دہ تیزابی مواد سے نمٹ سکتا ہے۔
  • کراؤن پراسیکیوشن سروسز کی پراسیکیوٹرز کے لیے مزید ہدایات کہ وہ کس طرح تیزاب اور نقصان دہ تیزابی مادے کو ' خطرناک ہتھیار' میں شامل کر سکتے ہیں۔
  • اس کے علاوہ تیزاب فروخت کرنے والوں کو رضامند کرنا کہ وہ تیزاب کی فروخت کے قواعد کو مزید سخت بنائیں۔
  • تیزاب حملوں کے پیچھے کارفرما سوچ یا مقاصد کو جاننے کے لیے تحقیق۔
  • متاثرین کے ہر کیس میں پولیس کی جانب سے قابل اثر بیانات مکمل ہوں۔
  • متاثرین کو فراہم کی جانے والی مدد کی تصدیق جس میں ابتدائی طبی مدد، عدالت میں شواہد پیش کرنا۔

اسی بارے میں