انگلینڈ: ’موت کے حق‘ کے لیے درخواست کی سماعت

مریض
Image caption 67 سالہ نوئیل کانوے

انگلینڈ کی ہائی کورٹ آف جسٹس میں قریب المرگ مریض 67 سالہ نوئیل کانوے کے مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے جنھوں نے کورٹ سے استداعا کی ہے کہ انھیں اپنی موت کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔

نوئیل کانوے کو موٹر نیورون کا مرض لاحق ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ مزید طبیعت خراب ہونے پر ڈاکٹرز کو انھیں جان لیوا انجیکشن لگانے کی اجازت دے دی جائے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اپنے چاہنے والوں کو 'صحیح وقت پر الوداع کہہ دیں، نہ کہ نہایت کرب کی حالت میں جب وہ جسمانی اور ذہنی طور پر شدید تکلیف میں ہوں۔'

موجودہ قوانین کے مطابق کوئی بھی ڈاکٹر جو نوئیل کانوے کو مرنے میں مدد کرے گا اسے 14 سال تک جیل کی سزا ہوگی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شریوسبری سے تعلق رکھنے والے نوئیل کانوے نے کہا 'میں اپاہج ہو جاؤں گا اور چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہوں گا۔ اور ایسے زندگی گزارنے میرے لیے جہنم سے کم نہیں اور میں ایسے نہیں رہنا چاہتا۔'

نوئیل کانوے اپنی بیماری سے قبل ایک کالج میں استاد تھے اور جسمانی طور پر تندرست تھے لیکن موٹر نیورن کے مرض کی وجہ سے ان کی جسم کے پٹھے کمزور تر ہوتے جا رہے ہیں۔

اب مرض اس قدر پھیل چکا ہے کہ وہ چل پھر نہیں سکتے اور سانس لینے کے لیے بھی ان کو وینٹیلیٹر کا سہارا لینے پڑتا ہے۔

بیماری کی وجہ سے نوئیل کانوے مقدمے کی سماعت کے لیے عدالت نہیں جا سکتے لیکن ان کے وکلا کہتے ہیں کہ وہ اپنی موت کا وقت متعین کرنے کا حق چاہتے ہیں جب تک ان کے پاس فیصلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

نوئیل کانوے کو اس مہم کے لیے نجی تنظیم 'ڈگنٹی ان ڈائنگ' کی حمایت حاصل ہے۔

تین سال قبل انگلینڈ کی سپریم کورٹ نے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جج قوانین کی ترجمانی کر سکتے ہیں لیکن ان قوانین کو بدلنے کی ذمےداری پارلیمان پر ہے کہ وہ اس کو تبدیل کرنا چاہتی ہے یا نہیں۔

سال 2015 میں پارلیمان کے ممبرز نے انگلینڈ اور ویلز میں موت کے لیے مدد دینے کی تجویز کو ووٹنگ کر کے رد کر دیا تھا۔

اس قانون کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے معاشرے کے غریب اور غیر محفوظ طبقے کو استحصال سے بچنے کی سہولت ملتی ہے۔

اس کیس کا فیصلہ چار دن میں متوقع ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں