متحدہ عرب امارات کا قطر کی سرکاری سائٹس ہیک کرنے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ QNA/INSTAGRAM
Image caption قطری امیر سے منسوب بیانات کو ایجسنی کے انسٹاگرام پر بھی پوسٹ کیا گیا

متحدہ عرب امارات نے ان الزامات سے انکار کیا ہے کہ وہ مئی میں قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی کی مبینہ ہیکنگ میں ملوث تھا۔

دی واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس کے اہلکاروں کے مطابق قطر کے سرکاری میڈیا کی ویب سائٹ پر قطری امیر کے حوالے سے شائع ہونے والے اشتعال انگیز پیغامات کے پیچھے متحدہ عرب امارات کا ہاتھ تھا۔

قطر پر سعودی عرب کا دباؤ بے اثر

قطر خلیجی ممالک کو کھٹکتا کیوں ہے؟

قطر کے بحران سے ایران کی چاندی؟

اس واقعے کے بعد قطر اور اس کے ہمسایوں میں سفارتی جنگ شروع ہوگئی تھی۔

متحدہ عرب امارات کے خارجہ امور کے وزیر انور گارگاش نے بی بی سی کو بتایا کہ ان پیغامات کی اشاعت میں ان کے ملک کے ملوث ہونے کی خبریں 'سچ نہیں' ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ خبریں بھی غلط ہیں کہ متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ریاستوں نے فیفا سے ایک خط میں کہا ہے کہ قطر سے 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی واپس لے لی جائے۔

سوئس نیوز نیٹ ورک 'دی لوکل' کا کہنا تھا کہ ہُو بہُو ان جیسی ایک جعلی ویب سائٹ پر فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو سے یہ بیان منسوب کیا گیا تا جو کہ ایک جعلی خبر تھی۔

واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والی خبر میں نامعلوم امریکی انٹیلیجنس اہکاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نئی معلومات کے تجزیے سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ 23 مئی کو متحدہ عرب امارت کی حکومت کے سینئر ممبران نے قطر کی سرکاری ویب سائٹس کو ہیک کرنے کے بارے میں بات چیت کی تھی۔

اس کے بعد اسی دن سرکاری قطر نیوز ایجنسی پر ملک کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے نام سے منسوب ایک بیان چھپا تھا جس میں امریکہ کی ایران کی جانب 'جارحیت' پر تنقید کی گئی تھی، ایران کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ ایک ایسی 'اسلامی طاقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا' اور مزید یہ کہ حماس 'فلسطینی عوام کا جائز ترجمان' ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین اور مصر نے قطر کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے

قطری حکام کا کہنا تھا کہ ایجنسی کو ہیکنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اس پر چھپنے والا قطری امیر کا وہ بیان 'بے بنیاد' ہے۔ تاہم خطے میں قطری امیر کے اس بیان کو بھرپور انداز میں رپورٹ کیا گیا جس کے بعد ایک ہلچل مچ گئی تھی۔

ردعمل میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین اور مصر نے قطری میڈیا پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اس کے دو ہفتے بعد چاروں عرب ممالک نے شدت پسندی کی مبینہ معاونت اور ایران کے ساتھ تعلقات پر قطر سے تمام تعلقات ختم کر دیے تھے۔ عرب ممالک کے اس بائیکاٹ سے تیل اور گیس سے مالامال ریاست میں بحران پیدا ہوگیا ہے جو اپنے عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زمینی اور سمندری راستے سے ہونے والے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔

امریکی انٹیلیجنس حکام نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ یہ واضح نہیں کہ متحدہ عرب امارات نے قطر نیوز ایجنسی کو خود ہیک کیا یا پھر ایسا کرنے کے لیے کسی تیسری پارٹی کو پیسے دیے۔

برطانوی اخبار گارڈیئن نے گذشتہ ماہ رپورٹ کیا تھا کہ امریکی ادارے ایف بی آئی کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس ہیکنگ میں پیشہ ور روسی ہیکر ملوث تھے۔

امریکی خفیہ اداروں نے واشنگٹن پوسٹ کی اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن واشنگٹن میں متحدہ عرب امارات کے سفیر نے اسرار کیا ہے کہ 'ہیکنگ کے اس مبینہ واقعے میں ان کا کوئی کردار نہیں' ہے۔

سفیر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ 'جو سچ ہے وہ ہے قطر کا طرز عمل۔ طالبان سے لے کر حماس اور قذافی جیسے شدت پسندوں کی فنڈنگ اور حمایت کرنا۔ تشدد کے لیے بھڑکانا اور اپنے ہمسایوں کے استحکام کو نقصان پہنچانا‘۔

اسی بارے میں