روس کا امریکہ سے سفارتی کمپاؤنڈز کی واپسی کا مطالبہ

امریکہ روس تصویر کے کاپی رائٹ EPA

روس کی جانب سے امریکہ پر گذشتہ سال قبضے میں لیے جانے والے دو سفارتی کمپاؤنڈز تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مطالبات بڑھائے جا رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد ایک روسی اہلکار نے کہا ہے کہ اس مسئلے کو ’کافی حد تک حل کر لیا گیا ہے‘۔

روس میں اس اقدام پر شدید غصہ پایا گیا تھا اور اسے روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے ’دن دھاڑے چوری‘ کہا تھا۔

ٹرمپ، پوتن ملاقات میں امریکی انتخابات میں مداخلت پر بات

ٹرمپ میڈیا میں روس سے رابطوں کی خبروں پر برہم

یاد رہے کہ دسمبر میں امریکہ نے 35 روسی سفارتکاروں کو امریکی انتخاب میں مداخلت کے شک میں ملک سے نکال کر کمپاؤنڈز کو بند کر دیا تھا۔

روسی نائب وزیر خارجہ سرگے ریبکوو جو کہ ان مذاکرات میں شامل تھے سے جب صحافیوں نے پوچھا کہ کیا سفارتی کمپاؤنڈز کا مسئلہ حل ہو گیا ہے ؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’کافی حد تک۔‘

دوسری جانب اس حوالے سے امریکی حکام نے کوئی تبصرہ نہیں کیا اور نہ صحافیوں کو اس بارے میں بتایا گیا ہے۔

ان مذاکرات سے قبل روس نے واضح کر دیا تھا کہ وہ ان عمارتوں تک دوبارہ رسائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

روس صدارتی دفتر کے ترجمان دیمتری پیسکو کا کہنا تھا کہ ’شرائط کے ساتھ سفارتی عمارتوں کی واپسی ناقابل قبول ہے، ہمارے خیال میں انھیں بنا کسی شرائط اور بات چیت کے واپس کرنا چاہیے۔‘

گذشتہ ہفتے روس کا کہنا تھا کہ وہ ’مخصوص جوابی اقدامات‘ پر غور کر رہا ہے جن میں 30 امریکی سفارتکاروں کو ملک سے نکالنے اور امریکی املاک پر قبضہ کرنا شامل ہے۔

اسی بارے میں