ٹیکسٹ پیغامات کا جواب نہ ملنے پر خاتون نے طلاق لے لی

علیحدگی
Image caption شوہر اور اہلیہ میں علیحدگی کی علامتی تصویر

کیا کبھی آپ نے اپنی بیوی یا شوہر کے ٹیکسٹ پیغام کو نظر انداز کیا ہے؟ اگر جواب 'ہاں' ہے تو ہوشیار ہو جائیں کیونکہ آپ مشکلات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

تائیوان میں ایک خاتون نے اپنے شوہر کو اس لیے طلاق دے دی کیونکہ وہ ان کے ٹیکسٹ پیغامات کا جواب نہیں دیتا تھا۔ عدالت میں انھوں نے پیغام رسانی کی ایپ 'لائن' پر بھیجے جانے والے اپنے پیغامات بھی دکھائے گئے۔

٭ پوسٹ کارڈ کے ذریعے طلاق دینے پر گرفتاری

٭ بیوی کے فون سے ’اُوبر‘ بلانا مہنگا پڑا

٭ سابقہ سعودی بیوی سے بدلہ الٹا پڑ گیا

ایپ میں یہ نظر آیا کہ شوہر نے اپنی اہلیہ کے ٹیکسٹ پیغامات پڑھے لیکن ان کا جواب نہیں دیا۔ اسے دیکھنے کے بعد جج نے خاتون کے حق میں فیصلہ سنایا۔

کسی کے پیغام کو پڑھ کر جواب نہ دینے کے لیے 'بلیو ٹكنگ' کا نام دیا گیا ہے۔ یہ طریقہ یا سہولت واٹس ایپ اور دیگر آن لائن سوشل میڈیا ایپس سے آیا ہے۔

خاندانی امور کی عدالت میں جج نے خواتین کی جانب سے ثبوت کے طور پر پیش کیے گئے پیغامات کو بنیاد بنا کر فیصلہ سنایا۔ جج نے کہا کہ متاثرہ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، ایسے میں اسے طلاق کی منظوری دی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پیغام کو پڑھے جانے کا علم بلو ٹکنگ کے ذریعے پیغام بھیجنے والے کو ہو جاتا ہے

جج نے کہا کہ 'چھ ماہ تک متاثرہ نے اپنے شوہر کو میسجز کیے لیکن انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔ ان میں سے ایک پیغام یہ بھی تھا کہ کار حادثے کی وجہ سے وہ ہسپتال میں داخل ہیں۔

ایک اور ٹیکسٹ پیغام میں انھوں نے اپنے شوہر کو میسج کیا کہ وہ ایمرجنسی روم میں ہیں، لیکن پھر بھی شوہر نے میسج پڑھنے کے بعد جواب نہیں دیا۔

اگرچہ عورت کے شوہر نے ایک بار ہسپتال آ کر خیریت دریافت کی تھی لیکن جج نے میسج کا جواب نہ دینے کو بنیاد بنا کر طلاق کی اجازت دے دی۔

دونوں کی شادی سنہ 2012 میں ہوئی تھی۔ خاتون کی عمر 50 سال کے قریب ہے جبکہ شوہر کی عمر تقریباً 40 سال بتائی جاتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں