تھائی لینڈ میں جنرل سمگلنگ کا مجرم قرار

روہنگیا مسلمان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحقیقات سے پتہ چلا کہ سمگلر روہنگیا مسلمانوں کو بیرونِ ملک بھیجنے کا جھانسا دے کر ان سے پیسے بٹور رہے تھے

تھائی لینڈ کی ایک عدالت نے ایک سابق جنرل کو انسانی سمگنگ کا مجرم قرار دیا ہے۔

بینکاک کی ایک عدالت کے اس تاریخی فیصلے میں جنرل مانوس کونپانگ کو 40 دوسرے افراد کے ہمراہ بنگلہ دیشی اور روہنگیا مسلمانوں کی سمگلنگ کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔

مقدمہ ایک سو سے زیادہ افراد پر انسانی سمگلنگ، اغوا اور قتل کے الزامات کے تحت چلایا گیا۔

٭ روہنگیا مسلمانوں کا درد

٭ 'ہم روہنگیا ہیں، ہمیں مار ہی دیجیے'

روہنگیا مسلمان ایک عرصے سے میانمار (سابق برما) سے باہر نکلنے کی کوششیں کر رہے ہیں کیوں کہ وہاں انھیں نسلی تعصب کا سامنا ہے۔ یہ لوگ اس مقصد کے لیے سمگلروں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔

جنرل کونپانگ کو جون 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ تھائی لینڈ سے گزرنے والے انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک کا خاتمہ کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنرل کونپانگ کو 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا

جج نے جنرل کو انسانی سمگلنگ اور منظم بین الاقوامی جرائم کا مرتکب قرار دیا، تاہم انھیں اب تک کوئی سزا نہیں سنائی گئی۔

جنرل کونپانگ نے 2009 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ تھائی لینڈ پناہ گزینوں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آتا ہے۔ اس وقت ان پر الزام لگا تھا کہ انھوں نے ایک ہزار سے زیادہ روہنگیا مسلمانوں کو بغیر انجن والی کشتیوں میں سوار کر کے سمندر میں چھوڑ دیا تھا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وہ فوجی حکومت میں چلنے والے تھائی لینڈ کے پہلے جنرل ہیں جنھیں پناہ گزینوں کی سمگلنگ کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

2015 میں ہزاروں پناہ گزین تھائی لینڈ سے ملائشیا اور دوسرے ملکوں کو جانے کی کوشش میں سمندر میں گھر کر رہ گئے تھے۔

حالیہ مقدمے کا آغاز اس وقت ہوا جب تھائی لینڈ اور ملائشیا کی سرحد پر پناہ گزینوں کی اجتماعی قبروں کا انکشاف ہوا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق روہنگیا دنیا کی سب سے زیادہ ستائی جانے والی نسلی اقلیت ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں