بیوی کے ہاتھوں شوہر کے قتل پر ’طوطے کی گواہی‘

مارٹن ڈورم تصویر کے کاپی رائٹ ABC

امریکی ریاست مشی گن میں ایک شخص کے قتل کے مقدمے میں یہ امر سامنے آیا ہے کہ ان کی اہلیہ نے مقتول کو پانچ بار گولی ماری اور اس واقعے کو بظاہر ایک طوطے نے دیکھا تھا۔

گلینہ ڈورم نے اپنے شوہر مارٹن کو سنہ 2015 میں اپنے پالتو طوطے کے سامنے گولی ماری تھی۔ اس سے قبل انھوں نے اسی گن سے خودکشی کی ناکام کوشش بھی کی تھی۔

مارٹن کی سابقہ بیوی کے مطابق طوطے نے مقتول کی آواز میں یہ نقل کرتے ہوئے کہا ’ڈونٹ شوٹ‘ یعنی گولی مت چلاؤ۔

طوطے کا نام بڈ ہے جو افریقی نسل سے تعلق رکھتا ہے اور اس کو عدالتی کارروائی میں شامل نہیں کیا گیا۔

عدالت نے عدالتی کارروائی کے پہلے دن 49 سالہ گلینہ ڈورم کو فرسٹ ڈگری کیس میں مجرم قرار دیا ہے۔ انھیں اگلے ماہ سزا دی جائے گی۔

سنہ 2015 میں انھیں ایک حادثے کے دوران سر پر چوٹ آئی تھی۔

مارٹن ڈورم کی والدہ نے ان کی اہلیہ کو اس وقت ’بے حس ‘ کہا جب عدالت میں ان کے خلاف ثبوت پیش کیے گئے۔

ڈورم کی سابقہ بیوی کرسٹینا کیلر نے اب ان کے پالتو طوطے کو اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ طوطا قتل کے واقعے کی رات کی بات چیت کو دہراتا ہے۔ ان کے خیال میں اس دن آخری بات یہی ہوئی تھی کہ ’مت مارو۔‘

ڈورم کے والدین بھی ان کی رائے سے متفق ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ ممکن ہے طوطے نے ان دونوں میاں بیوی کے جھگڑے کو سنا ہو۔

ان کے والد نے مقامی میڈیا کو حادثے کے وقت بتایا کہ ’میرا ذاتی خیال ہے کہ اسے وہ یاد ہے اور وہ یہ کہہ رہا ہے ۔‘

پراسیکیوٹر نے ابتدا میں طوطے کی جانب سے بولے جانے الفاظ کو عدالت میں قتل کے مقدمے میں بطور ثبوت پیش کیا جائے تاہم بعد میں ایسا نہیں کیا گیا۔

پراسیکیوٹر کے مطابق طوطے کو عدالت میں لانا اور بطور گواہ مقدمے میں شامل کرنا درست نہیں ہوتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں