جنوبی ایشیائی ہم جنس پرستوں کی زبردستی شادیاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption برطانیہ میں جنوبی ایشیائی ہم جنس پرست افراد کی زبردستی شادی کی تیس شکایت پچھلے سال جبری شادی کے لیے قائم یونٹ میں پیش ہوئیں

برطانیہ کی ایک پولیس فورس کے مطابق جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں ہم جنس پرست مرد اور خواتین کی اُن کی مرضی کے خلاف مخالف جنس کے افراد سے شادیاں کروائی جا رہی ہیں۔

ویسٹ مڈلینڈز پولیس کا کہنا ہے کہ اپنے ہی خاندان کی جانب سے مخالف جنس کے ساتھ شادی پر مجبور کرنے کی شکایت میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔

برطانیہ میں جبری شادیاں روکنے کے لیے قائم خصوصی یونٹ کو پچھلے سال 30 ہم جنس پرست افراد کی جانب سے شکایات موصول ہوئیں۔ مگر اُن کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ جنوبی ایشیائی برادری میں ہم جنس پرستی کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔

٭ مالٹا میں ہم جنس پرستی کے 'علاج' پر پابندی

٭ تنزانیہ: ہم جنس پرستوں کے نام شائع کرنے کی دھمکی

اس بات کی تائید ہم جنس پرست افراد کے لیے کام کرنے والے فلاحی اداروں کی جانب سے جمع شدہ اعداد وشمار سے بھی ہوتی ہے جنھوں نے پولیس کو شکایات بھجوائیں۔

جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے 22 ہم جنس پرست مرد اور خواتین نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں مختلف مواقعوں پر مخالف جنس کے افراد سے شادی کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔

زیادہ تر کیسز میں مجبور کیے جانے والے افراد اس بات پر راضی ہونے کے لیے تیار ہو گئے کیونکہ وہ اپنے گھر والوں کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے تھے اور ان کی ساکھ متاثر نہیں کرنا چاہتے تھے۔

ایک شخص جن کا فرضی نام رنجیپ ہے کا کہنا تھا کہ چند سال پہلے اُنھوں نے اپنے خاندان والوں کو بتایا کہ وہ ہم جنس پرست ہیں۔ اس پر ان کے والد نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عورت سے شادی کر لیں۔

رنجیپ کہتے ہیں کہ 'میں سکھ ہوں اور روایتی طور پر پرانی جنریشن کے لیے ہم جنس پرستی قابل قبول نہیں۔ میرے والد نے مجھے ایک عورت سے شادی کرنے کے لیے کہا کیونکہ اُن کے خیال میں اس سے میری ہم جنسی پرستی کا علاج ہوجائے گا۔'

تیس برس کے رنجیپ کا تعلق کونٹری سے ہے اُن کا مزید کہنا ہے کہ 'جذباتی دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے اور تکلیف دہ ہوتا ہے کیونکہ آپ اپنے گھر والوں کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے یہ کہہ کر کے آپ ہم جنس پرست ہیں۔ میں نے اپنے شریک زندگی کے ساتھ شادی کر لی مگر میرے والدین شادی میں شامل نہیں ہوئے۔'

ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ دو مختلف زندگیاں جی رہے ہیں اور پریشان ہیں کہ اُن کے والد انھیں اس صورت میں قبول نہیں کریں گے۔

رنجیپ نے کہا کہ 'میرا دل اس بات کو دیکھ کر ٹوٹ گیا ہے کہ میرے والد میری جنسی رغبت کو دیکھ کر دل برداشتہ ہیں۔'

جبری شادی اُسے کہتے ہیں جس میں ایک یا دونوں فریقین کی مرضی کے خلاف شادی کی جائے جس میں دباؤ اور بدسلوکی کی جائے۔ برطانیہ میں یہ غیرقانونی ہے اور یہ مرد اورخواتین کے ساتھ تشدد کے ذمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔

ویسٹ مڈلینڈز پولیس کی ٹروڈی گٹنز کہتی ہیں کہ ہم جنس پرست برادری سے شکایات کرنے والوں کا تعلق زندگی کے مختلف شعبوں سے ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ 'ہمارے پاس پڑھے لکھے پیشہ ور افراد آتے ہیں جو انتہائی دباؤ میں ہوتے ہیں کیونکہ اُن سے توقعات وابستہ ہوتی ہیں کہ وہ اپنے خاندان کا نام خراب نہیں کریں گے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم جنس پرستوں کے خلاف نفرت کے جذبات معاشرے کے کچھ حصوں میں عام ہیں اور ایسی جنسی رغبت رکھنے پر برادری سے روابط متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے شخص پر شدید دباؤ ہوتا ہے اور وہ پریشانی اور تکلیف دہ حالت میں ہوتے ہیں کچھ کیسز میں تو ایسے لوگوں کے ذہنوں میں خود کشی کرنے کے خیالات بھی آتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لندن میں 2016 میں ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے حقوق کے لیے احتجاج

پرانے رسم و رواج

برطانوی وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ نے جبری شادیاں روکنے کے لیے سنہ 2005 میں فورسڈ میرج یونٹ قائم کیا۔

اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ سال 30 ہم جنس پرست افراد جنھوں نے اس یونٹ سے رابطے کیے وہ اُن ایک ہزار چار سو اٹھائیس لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے اس یونٹ سے مدد مانگی۔

حکومت نے اس بات کا اظہار کیا کہ یہ ممکن ہے کہ ہم جنس پرست افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ شکایت کرنے والوں سے اُن کی جنسی رغبت کے بارے میں باقاعدہ سوالات نہیں کیے گئے اور یہ کہ اُن کی جنسی رغبت جبری شادی کے لیے ذمہ دار تو نہیں۔

یہ یونٹ اب ہم جنس پرستوں کے لیے کام کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ متاثرین کو مدد مانگنے کے لیے آمادہ کیا جائے۔

خاقان قریشی برمنگھم شہر میں ایک ادارہ چلاتے ہیں جس کا نام 'فائنڈنگ اے وائس' ہے اور یہ ادارہ ہم جنس پرست جنوبی ایشیائی افراد کی مدد کرتا ہے۔

وہ خود مسلمان ہیں اور اُنھوں نے اپنے گھر والوں کو 20 سال قبل اپنے ہم جنس پرست ہونے کے بارے میں بتایا تھا۔ اب وہ اپنے گھر والوں سے بات نہیں کرتے انھوں نے کہا کے 'میرے ایک رشتہ دار نے مجھے کہا کہ اگر میرا بیٹا مجھے یہ بتائے کہ وہ ہم جنس پرست ہے تو میں اُسے قتل کردوں۔'

خاقان نے مزید کہا کہ 'یہ پرانے رسم و رواج ہیں جن سے مجھے ڈر لگتا ہے کیونکہ مجھے ہم جنس پرست کے طور پر اعلانیہ معاشرہ میں شامل ہوئے 20 سال گزر چکے ہیں مگر اب بھی ان نظریوں میں تبدیلی نہیں آئی۔ نوجوان نسل کو بہ ہمت ہونا پڑے گا اور ہم جنس پرستی کے خلاف نفرت کو رد کرنا ہوگا ورنہ حالات نہیں بدلیں گے۔'

بلیک برن نامی شہر میں مقیم امام سلیم سادات کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرست افراد سے عزت سے پیش آنا چاہیے اور ان سے انسان پسند رویہ برتنا چاہیے۔

امام سادات نے کہا کہ 'اسلام قطعی طور پر جبری شادی کے خلاف ہے۔‘

اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ 'یہ بہت اہم ہے کہ ہم نوجوان نسل کے خیالات جن میں جنسی رغبت کے معمالات شامل ہیں ان میں حساس رویہ اپنائیں اور ان کی مناسب مدد کریں تاکہ ان کی پرورش ہو اور وہ تندرست ہوں اور معاشرے کا حصہ بنیں۔'

اسی بارے میں