امریکہ نے اپنے شہریوں کے شمالی کوریا جانے پر پابندی کی تصدیق کر دی

شمالی کوریا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکہ نے تصدیق کر دی ہے کہ وہ اپنی شہریوں کے شمالی کوریا جانے پر پابندی عائد کر رہا ہے۔

سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسا امریکی شہریوں کی شمالی کوریا میں گرفتاری اور طویل قید کے خطرے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پابندی پر ایک ماہ میں عمل در آمد شروع کر دیا جائے گا۔

ایک بار یہ لاگو ہو گئی تو شمالی کوریا جانے والوں کو خصوصی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔

اس سے پہلے امریکہ میں ٹور آپریٹ کرنے والی دو ایجنسیوں نے عندیہ دیا تھا کہ امریکہ اپنے شہریوں کے شمالی کوریا جانے پر پابندی عائد کرنے والا ہے۔

کوریو ٹورز اور ینگ پائنیر ٹورز کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا اعلان 27 جولائی کو کیا جائے گا اور یہ پابندی ایک ماہ کے لیے ہو گی۔

امریکہ کا شمالی کوریا کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا عندیہ

شمالی کوریا کا میزائل بین البراعظمی تھا: امریکہ نے تصدیق کر دی

ینگ پائنیر ٹورز نامی ایجنسی امریکی طالب علم اوٹو وارمبیر کو لے کر شمالی کوریا گئی تھی۔

اوٹو وارمبیر نامی طالب علم کو بعد میں شمالی کوریا میں گرفتار کر کے 15 سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ انھیں جون میں کومے کی حالت میں امریکہ واپس بھیجا گیا جہاں چند دنوں بعد ان کا انتقال ہو گیا تھا۔

چین کی کمپنی نے بعد میں اعلان کیا تھا کہ وہ امریکی شہریوں کو شمالی کوریا لے کر نہیں جائے گی۔

چین کی کمپنی کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق 'ہمیں ابھی مطلع کیا گیا ہے کہ امریکی حکومت اپنے شہریوں کو اب ڈی پی آر کے (شمالی کوریا) کا سفر کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

بیان کے مطابق 'امید کی جا رہی ہے کہ اس پابندی کا اعلان 27 جولائی کو کیا جائے گا اور یہ ایک ماہ کے لیے ہو گی۔ 30 دن کےگریس پریڈ کے اختتام کے بعد شمالی کوریا کا سفر کرنے والے کسی بھی امریکی شخص کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا جائے گا۔

ینگ پائنیر ٹورز کے رون بیرڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی کمپنی کو شمالی کوریا میں امریکی افیئرز کی دیکھ بھال کرنے والی سویڈش سفارت خانے کی جانب سے اس بارے میں مطلع کیا گیا۔

سویڈش سفارت خانہ اب شمالی کوریا کو چھوڑنے والے امریکی سیاحوں کی تعداد کو چیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق تین امریکی شہری شمالی کوریا کی حراست میں ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں